کراچی: آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے سندھ پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بھرتی ہونے والے نئے ڈی ایس پیز سے ڈاکٹر محمد علی شاہ آڈیٹوریم، سینٹرل پولیس آفس کراچی میں ملاقات کی۔ اس موقع پر براہِ راست تقرری پانے والے 59 سے زائد افسران شریک ہوئے جن میں 29 فیلڈ میں تعینات جبکہ 30 ابھی تربیت کے منتظر ہیں۔
کیماڑی پولیس کی بڑی کامیابی، منشیات فروش ملزم شفیع اللہ گرفتار، آئس برآمد
پولیس کے مطابق نئے ڈی ایس پیز نے اسلام آباد نیشنل پولیس اکیڈمی سے ٹریننگ مکمل کی ہے جبکہ تربیت کی تکمیل کے بعد مزید 30 افسران کو بھی ذمہ داریاں دی جائیں گی۔
اجلاس میں آئی جی سندھ کے ہمراہ ایڈیشنل آئی جی کراچی، اسپیشل برانچ کے افسران اور ڈی آئی جیز ہیڈکوارٹرز، اسٹبلشمنٹ اور ٹی اینڈ ٹی بھی شریک ہوئے۔ ملاقات میں جرائم پر قابو پانے، عوام دوست پولیسنگ، انتظامی و مالیاتی امور اور فیلڈ چیلنجز پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نئے ڈی ایس پیز کو اہم ذمہ داریاں دی جائیں گی، جرائم کنٹرول کرنے کے لیے ایمانداری، میرٹ اور شفافیت کو اولین ترجیح دی جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ایس ایچ اوز کی تعیناتی کو امتحانات سے مشروط کیا گیا ہے جبکہ ہیڈ محررز کی تعیناتی کے لیے ڈی ڈی او کورس لازمی ہوگا۔
آئی جی سندھ نے افسران پر زور دیا کہ وہ فیلڈ میں بروقت موجودگی یقینی بنائیں، جائے وقوعہ پر شواہد اکٹھے کریں اور کرائم سین یونٹ کے ساتھ قریبی تعاون رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ جو افسر اچھا کام کرے گا اسے ریوارڈ اور حوصلہ افزائی دی جائے گی۔
ملاقات کے اختتام پر ڈی ایس پیز نے آئی جی سندھ کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی پر اظہار تشکر کیا اور اپنی جانب سے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

