کراچی (اسٹاف رپورٹر) ڈسٹرکٹ سینٹرل میں غیرقانونی تعمیرات کا سلسلہ ایک بار پھر زور پکڑ گیا ہے اور شہریوں کے لیے سکون کا سانس لینا مشکل ہوگیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کے ڈائریکٹر سینٹرل ضیا کی مبینہ سرپرستی میں گلبرگ، نارتھ ناظم آباد اور نارتھ کراچی سمیت مختلف علاقوں میں گراؤنڈ پلس ون اور ٹو کی تعمیرات دھڑادھڑ جاری ہیں، جن میں بلڈنگ قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی جارہی ہے۔
کراچی: پٹاخوں کے گودام میں آتشزدگی، مشتعل دکانداروں کا مالک کی گاڑی پر حملہ، ایک شخص جاں بحق
شہری منصوبہ بندی کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مون سون کی بارشوں اور اربن فلڈنگ کے خدشات کے باوجود بغیر نقشے اور بلڈنگ پلان کے چھتیں ڈالنے کا سلسلہ جاری ہے، جو کسی بھی وقت بڑے سانحے کا باعث بن سکتا ہے۔
واضح رہے کہ ڈی جی ایس بی سی اے شاہ میر بھٹو نے حال ہی میں پورے شہر میں غیرقانونی تعمیرات کے خلاف بلا تفریق کارروائی اور ملوث عناصر کے خلاف مقدمات درج کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم ڈائریکٹر سینٹرل ضیا نے اس اعلان کو مبینہ طور پر نظرانداز کرتے ہوئے غیرقانونی تعمیرات کی پشت پناہی شروع کردی ہے۔ دوسری جانب ایس بی سی اے ڈسٹرکٹ ایسٹ میں انہدامی کارروائیاں باقاعدگی سے جاری ہیں۔
شہری حلقوں کے مطابق سابق ڈپٹی کمشنر سینٹرل طحہ سلیم اور ڈاکٹر عاصم کی نگرانی میں غیرقانونی تعمیرات کے خلاف ایک مربوط حکمت عملی اپنائی گئی تھی جس کے مثبت نتائج سامنے آئے تھے، مگر ڈائریکٹر ضیا نے اس پورے عمل کو سبوتاژ کردیا ہے۔
عوامی حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ آخر ڈائریکٹر ضیا کو کس کی پشت پناہی حاصل ہے اور ان کے خلاف کارروائی کون کرے گا؟ گلبرگ اور فیڈرل بی ایریا سمیت متعدد علاقوں میں غیرقانونی تعمیرات نے نہ صرف شہری انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچانے کا خطرہ بڑھا دیا ہے بلکہ ماحولیاتی تبدیلی کے تناظر میں مستقبل کے بڑے حادثے کا بھی اندیشہ ہے۔
شہری ماہرین کے مطابق اگر کلاؤڈ برسٹ یا اربن فلڈنگ جیسی صورتحال پیدا ہوئی تو سب سے پہلے یہی غیرقانونی عمارتیں زمین بوس ہوں گی، جس سے قیمتی جانوں کے ضیاع کا خدشہ ہے۔
شہریوں نے وزیر بلدیات سعید غنی اور ڈی جی ایس بی سی اے شاہ میر بھٹو سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈسٹرکٹ سینٹرل میں غیرقانونی تعمیرات کی سرپرستی کرنے والے عناصر کے خلاف فوری اور بلا امتیاز کارروائی کی جائے تاکہ شہر کو کسی بڑے سانحے سے بچایا جا سکے۔

