کراچی کے صحافی خاور حسین کی موت کے واقعے سے متعلق ڈی آئی جی ساؤتھ فیصل بشیر میمن نے ابتدائی تفصیلات میڈیا کو فراہم کی ہیں۔
معروف یوٹیوبر ڈکی بھائی لاہور ایئرپورٹ سے حراست میں لے لیے گئے
ڈی آئی جی کے مطابق خاور حسین کی گاڑی سے ملنے والا پستول ان کا ذاتی اسلحہ تھا جو انہوں نے اپنی حفاظت کے لیے رکھا ہوا تھا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق خاور حسین اکیلے تھے اور کوئی دوسرا شخص ساتھ نظر نہیں آیا۔
فیصل بشیر میمن نے بتایا کہ خاور حسین نے گاڑی ہوٹل کے قریب پارک کی اور دو بار واش روم گئے۔ پہلے ہوٹل منیجر سے جا کر واش روم کا پوچھا، پھر دوبارہ چوکیدار سے بھی راستہ دریافت کیا اور واپس آ کر گاڑی میں بیٹھ گئے۔
ہوٹل منیجر نے چوکیدار کو ہدایت دی کہ جاکر معلوم کریں وہ کچھ آرڈر کرنا چاہتے ہیں یا نہیں کیونکہ کافی دیر ہو گئی تھی۔ جب چوکیدار گاڑی کے قریب گیا تو اندر خاور حسین کی گولی لگی لاش موجود تھی۔
ڈی آئی جی کے مطابق خاور حسین ڈپریشن کا شکار لگ رہے تھے تاہم تفتیش تمام پہلوؤں سے جاری ہے اور ابھی کسی نتیجے پر نہیں پہنچا جا سکتا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ خاور حسین نے مئی میں اپنے والدین کو امریکا شفٹ کیا تھا اور حال ہی میں سانگھڑ مجلس میں شرکت کے لیے گئے تھے، تاہم وہ مجلس میں شریک نہیں ہوئے۔
