پاکستان رینجرز (سندھ) نے کراچی میں شہریوں کے اغوا میں ملوث ایک منظم گروہ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے نیو ایم اے جناح روڈ نزد اسلامیہ کالج سے چار ملزمان کو گرفتار کرلیا۔
چین میں پاک بحریہ کی تیسری ہنگور کلاس آبدوز پی این ایس ایم مانگرو کی لانچنگ
ترجمان رینجرز کے مطابق گرفتار ملزمان میں عامر علی ولد روشن علی، بلال علی ولد مبارک علی شیخ، فیصل رانا ولد رانا عبدالجبار اور ملزمہ گلزارہ زوجہ شبیر احمد شامل ہیں۔ کارروائی کے دوران 15 سالہ مغوی راشد بلیدی ولد روشن علی کو بھی بازیاب کرالیا گیا جو اندرون سندھ ضلع لاڑکانہ کا رہائشی اور کراچی میں پنکچر کی دکان پر کام کرتا ہے۔
ابتدائی بیان میں مغوی نے بتایا کہ وہ جشنِ آزادی کی ریلی کے ہمراہ مزارِ قائد آیا تھا جہاں ملزمان نے خود کو پولیس اہلکار ظاہر کرتے ہوئے اسے تشدد کا نشانہ بنایا اور زبردستی گاڑی میں ڈال کر نامعلوم مقام کی طرف لے جا رہے تھے۔
ترجمان رینجرز کا کہنا ہے کہ ملزمان کے قبضے سے غیر قانونی اسلحہ و ایمونیشن، پولیس یونیفارم، ہتھکڑی اور ایک کار برآمد ہوئی جس پر پولیس وارننگ لائٹ اور ٹنٹڈ گلاسز نصب تھے۔ کارروائی کے دوران ملزمان کے تین ساتھی موٹرسائیکلوں پر فرار ہوگئے۔
ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ فرار ہونے والا محمد نعمان ولد قاری ریاض حسین گینگ لیڈر ہے جبکہ گرفتار ملزمہ گلزارہ اس کی قریبی ساتھی ہے اور مجرمانہ سرگرمیوں میں اس کی معاونت کرتی رہی ہے۔ فرار ملزمان فرید الحق ولد سید الحق اور محمد نور ولد سید امین کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
رینجرز نے گرفتار ملزمان کو مزید قانونی کارروائی کے لیے پولیس کے حوالے کر دیا ہے جبکہ تھانہ جمشید کوارٹرز میں ان کے خلاف تین مقدمات درج کرلیے گئے ہیں۔
عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ ایسے عناصر کی اطلاع فوری طور پر قریبی رینجرز چیک پوسٹ، ہیلپ لائن 1101 یا واٹس ایپ نمبر 03479001111 پر دیں، اطلاع دینے والے کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔
