باجوڑ (خصوصی رپورٹ): سیکیورٹی ذرائع نے باجوڑ میں خوارج کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر مقامی قبائل دہشت گردوں کو علاقے سے نکالنے سے قاصر ہیں تو انہیں علاقہ عارضی طور پر خالی کرنا ہوگا تاکہ سیکیورٹی فورسز ان عناصر کے خلاف بھرپور کارروائی کرسکیں۔
الیکشن کمیشن کا سیاسی جماعتوں کو یاددہانی نوٹس، 29 اگست تک مالی گوشوارے جمع کرانے کی ہدایت
ذرائع کا کہنا ہے کہ خوارج باجوڑ میں عام آبادی کے درمیان چھپ کر دہشتگردانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں اور عوام کو بطور انسانی ڈھال استعمال کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں خوارج اور قبائل کے مابین ہونے والی بات چیت میں جان بوجھ کر ابہام پیدا کیا جا رہا ہے تاکہ فورسز کی کارروائیوں میں رکاوٹ ڈالی جا سکے۔
سیکیورٹی حکام اور خیبرپختونخوا حکومت نے قبائلی عمائدین کے سامنے تین نکات پر مبنی لائحہ عمل پیش کیا ہے:
-
افغانیوں پر مشتمل خارجیوں کو فوری طور پر علاقے سے نکالا جائے۔
-
اگر نکالنا ممکن نہ ہو تو ایک یا دو دن کے لیے علاقہ خالی کر دیا جائے۔
-
اگر دونوں امور ممکن نہ ہوں، تو دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں ممکنہ حد تک عوامی نقصان سے بچنے کی کوشش کی جائے گی، تاہم آپریشن ہر صورت جاری رہے گا۔
ذرائع نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ ریاست کے سوا کسی کو مسلح کارروائی کا اختیار نہیں، اور خوارج یا ان کے سہولت کاروں سے کسی بھی حکومتی سطح پر بات چیت صرف اسی صورت ممکن ہے جب وہ مکمل طور پر ہتھیار ڈال کر ریاست کے سامنے سرِ تسلیم خم کریں۔
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ایک منظم قبائلی جرگے کا انعقاد اس لیے بھی ضروری ہے تاکہ کارروائی سے قبل عوامی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے اور معصوم شہریوں کی زندگیوں کو ممکنہ خطرات سے بچایا جا سکے۔
