اسلام آباد: سپریم کورٹ نے کثیر المنزلہ عمارت کی تعمیر سے متعلق درخواست کو آئندہ سماعت کے لیے آئینی بینچ کے سامنے پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے تمام فریقین کو 30 دن کے اندر مفصل جواب جمع کرانے کی ہدایت بھی کی ہے۔
ملیر پولیس کا شرافی گوٹھ میں منشیات فروشوں کے خلاف گرینڈ آپریشن، اڈے مسمار، تین گرفتار
چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ عدالتی حکم پر ڈائریکٹر سیپا (ماحولیاتی تحفظ ایجنسی) سپریم کورٹ رجسٹری میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے عمارت کی تعمیر سے متعلق فائل دیکھی ہے؟ جس پر ڈائریکٹر سیپا نے جواب دیا کہ انہوں نے فائل نہیں دیکھی۔
چیف جسٹس نے دریافت کیا کہ عمارت کی تعمیر کے دوران ماحولیاتی تحفظ کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟ اس موقع پر این جی او کے وکیل نے موقف اپنایا کہ عمارت کی تعمیر بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور بلڈر نے ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ ان کے موکل کے گھر سے متصل 16 منزلہ عمارت تعمیر کی گئی، جبکہ ریگولیشن کے مطابق عمارت کے اطراف اوپن اسپیس چھوڑنا لازمی ہے۔ بلڈر کے وکیل بیرسٹر عابد زبیری نے کہا کہ عمارت کی تعمیر کے آغاز پر ماحولیاتی قوانین نافذ نہیں تھے۔
چیف جسٹس نے واضح ہدایت دی کہ ماحولیاتی، قانونی اور تعمیراتی قواعد سے متعلق تمام اقدامات پر رپورٹ ایک ماہ کے اندر جمع کروائی جائے۔ عدالت نے کیس کو مزید سماعت کے لیے آئینی بینچ کو منتقل کر دیا۔
