عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق یوکرین نے انکشاف کیا ہے کہ روسی افواج کی جانب سے استعمال کیے جانے والے ایرانی ساختہ ڈرونز میں بھارت میں تیار کردہ یا اسمبل شدہ پرزے شامل ہیں۔ یوکرینی صدارتی چیف آف اسٹاف اندری یرماک نے یہ بات ٹیلیگرام پر جاری ایک پیغام میں کہی۔
24 سرکاری اداروں کی نجکاری کا منصوبہ پی آئی اے روز ویلٹ ہوٹل اور فرسٹ وومن بینک پہلے مرحلے میں شامل
یوکرینی حکام کے مطابق یہ پرزے شاہد 136 نامی ڈرونز میں پائے گئے ہیں، جنہیں روس نے یوکرین کی فوجی تنصیبات اور شہری آبادیوں پر حملوں کے لیے استعمال کیا۔ حکام نے ان پرزوں کی موجودگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور اسے عالمی سطح پر بھارت کی غیر جانبدارانہ پالیسی کے دعوے سے متصادم قرار دیا ہے۔
بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ یوکرینی حکومت نے بھارت اور یورپی یونین کو باضابطہ طور پر اس معاملے پر تحفظات سے آگاہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یوکرین نے بھارتی وزارت خارجہ سے کم از کم دو بار سفارتی مراسلت کے ذریعے اس مسئلے کو اٹھایا۔
رپورٹ کے مطابق جولائی کے وسط میں دہلی کے دورے پر آئے یورپی یونین کے پابندیوں کے ایلچی ڈیوڈ او سلیوان کے ساتھ بھی یوکرینی سفارتکاروں نے اس معاملے پر بات کی۔ سلیوان کا دورہ بھارت کو یورپی یونین کی نئی پابندیوں سے آگاہ کرنے کے سلسلے میں تھا، جن میں روسنیفٹ کی ملکیت والی ودینار ریفائنری پر بھی پابندیاں شامل تھیں۔
یوکرینی دفاعی انٹیلیجنس ایجنسی کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ بھارت میں اسمبل شدہ کمپنی وشے انٹرٹیکنالوجی کا بریج ریکٹیفائر (E300359) ڈرون کے وولٹیج ریگولیٹر یونٹ میں استعمال ہوا، جبکہ آورا سیمی کنڈکٹر کی تیار کردہ سگنل جنریٹر چپ (AU5426A) ڈرون کے سیٹلائٹ نیویگیشن سسٹم میں نصب پائی گئی۔
اگرچہ بھارتی وزارت خارجہ یا یوکرینی سفارت خانے نے اس پر سرکاری ردعمل نہیں دیا، تاہم یوکرین کی دفاعی انٹیلیجنس ایجنسی نے اپنے فیس بک اور ٹیلیگرام چینلز پر اس انکشاف کی تفصیلات جاری کی ہیں۔
واضح رہے کہ شاہد 136 ایک کم لاگت مگر مؤثر کامیakazi ڈرون ہے، جسے روس نے 2022 کے اختتام سے یوکرین پر مسلسل حملوں میں استعمال کیا ہے۔ یوکرینی فضائیہ کے مطابق روس اب تک ایسے 6 ہزار 129 ڈرونز فائر کر چکا ہے، جن میں سے بیشتر ایرانی پرزوں سے روس میں ہی اسمبل کیے جا رہے ہیں۔
بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس انکشاف نے عالمی سطح پر بھارت کے "اسٹریٹیجک غیر جانبداری” کے دعوے پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ اگر بھارت میں تیار یا اسمبل ہونے والے پرزے واقعی روسی جنگی مشینری کا حصہ بن رہے ہیں، تو یہ معاملہ بھارت کی تجارتی اور دفاعی برآمدات کے ضوابط پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔
