وفاقی حکومت نے 24 سرکاری اداروں کی نجکاری کا نیا منصوبہ قومی اسمبلی میں پیش کر دیا۔ وزیر نجکاری عبدالعلیم خان کی جانب سے ایوان میں جمع کرائے گئے تحریری جواب کے مطابق یہ نجکاری تین مراحل میں مکمل کی جائے گی۔
نابینا افراد کے لیے شاندار اوور نائٹ پکنک ایمیگوز ویلفیئر ٹرسٹ کی مثالی میزبانی
تحریری جواب میں بتایا گیا ہے کہ پہلے مرحلے میں ایک سال کے اندر 10 اداروں کی نجکاری مکمل کی جائے گی، جن میں پی آئی اے، روز ویلٹ ہوٹل، فرسٹ وومن بینک، ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن اور زرعی ترقیاتی بینک شامل ہیں۔ اس مرحلے میں آئیسکو سمیت 3 ڈسکوز کی نجکاری بھی کی جائے گی۔
دوسرے مرحلے میں تین سال کے اندر 13 اداروں کو نجی شعبے کے حوالے کیا جائے گا۔ ان اداروں میں اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن، یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن، 4 جینکوز اور لیسکو سمیت 6 ڈسکوز شامل ہوں گے۔
تحریری جواب کے مطابق تیسرے مرحلے میں پانچ سال کے اندر پوسٹل لائف انشورنس کمپنی کی نجکاری کا عمل مکمل کیا جائے گا۔
وزیر نجکاری عبدالعلیم خان نے ایوان کو یاد دلایا کہ حکومت نے گزشتہ سال بھی پی آئی اے کی نجکاری کی کوشش کی تھی، تاہم یہ عمل کامیاب نہ ہو سکا۔ 31 اکتوبر 2024 کو پی آئی اے کے 60 فیصد حصص کی نجکاری کے لیے بولی کھولی گئی تھی، لیکن توقع کے برعکس صرف 10 ارب روپے کی بولی موصول ہوئی، حالانکہ حکومت کو 85 ارب روپے کی امید تھی۔ نجکاری بورڈ نے کم بولی کی وجہ سے اس عمل کو روک دیا تھا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اب نئی حکمتِ عملی کے تحت نجکاری کا عمل مرحلہ وار اور شفاف طریقے سے آگے بڑھایا جائے گا تاکہ مالی خسارہ کم ہو اور قومی ادارے بہتر انتظام کے تحت چل سکیں۔
