گلشنِ اقبال میں غیرقانونی تعمیر کا خاتمہ، SBCA نے نجی بیوٹی پارلر مسمار کر دیا

کراچی: سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) نے گلشنِ اقبال بلاک 6 میں قائم "نجی بیوٹی پارلر” کے خلاف مؤثر کارروائی کرتے ہوئے غیرقانونی طور پر تعمیر شدہ عمارت کو مسمار کر دیا ہے۔ مذکورہ بیوٹی پارلر SBCA کی باقاعدہ منظوری اور بلڈنگ پلان کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تعمیر کیا جا رہا تھا، جس پر اتھارٹی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے اسے زمین بوس کر دیا۔

جشنِ آزادی “معرکۂ حق” کی تقریبات، ملی نغمے اور سجاوٹ پر سندھ حکومت کے انعامات کا اعلان

ذرائع کے مطابق "نجی بیوٹی پارلر” کی تعمیر کے دوران نہ تو SBCA سے کوئی اجازت نامہ حاصل کیا گیا تھا، نہ ہی منظوری شدہ نقشہ موجود تھا۔ جب اس غیرقانونی تعمیر کی اطلاع SBCA کے کنٹرول روم تک پہنچی تو ویجیلنس ٹیم نے فوری موقع پر پہنچ کر صورت حال کا جائزہ لیا۔ بعد ازاں، اعلیٰ حکام کی منظوری کے بعد انسدادِ تجاوزات ونگ کو کارروائی کا حکم دیا گیا۔

SBCA کے ذرائع نے بتایا کہ غیرقانونی تعمیر میں نہ صرف بلڈنگ قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی جا رہی تھی، بلکہ رہائشی علاقے میں کمرشل سرگرمی کو بھی فروغ دیا جا رہا تھا، جو کہ خطرناک رجحان بنتا جا رہا ہے۔ اس تناظر میں SBCA نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی غیرقانونی تعمیر کو برداشت نہیں کیا جائے گا، چاہے وہ کتنی ہی بااثر شخصیات کی سرپرستی میں کیوں نہ ہو۔

SBCA حکام کے مطابق، یہ کارروائی اس عزم کا مظہر ہے کہ کراچی کو غیرقانونی تعمیرات سے پاک کیا جائے گا۔ ادارے کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ "کسی کو بھی قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔ یہ پیغام سب کے لیے ہے کہ جو بھی بغیر اجازت یا منظوری کے تعمیر کرے گا، اس کی عمارت کو فوری طور پر مسمار کر دیا جائے گا۔”

علاقہ مکینوں نے بھی SBCA کی اس کارروائی کو سراہا ہے اور کہا ہے کہ رہائشی علاقوں میں بغیر اجازت کمرشل سرگرمیوں کے خلاف کارروائی ضروری ہے۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ اگر SBCA اسی طرح فعال کردار ادا کرتا رہا تو مستقبل میں غیرقانونی تعمیرات کے رجحان میں واضح کمی آئے گی۔

یاد رہے کہ کراچی کے کئی علاقوں میں بلڈنگ قوانین کی خلاف ورزیاں معمول بن چکی ہیں۔ اکثر اوقات بااثر افراد یا بلڈر مافیا، SBCA کے اندر موجود کرپٹ عناصر سے ملی بھگت کے ذریعے غیرقانونی عمارتیں تعمیر کر لیتے ہیں، جن پر بعد میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایکشن لینا پڑتا ہے۔ تاہم، حالیہ دنوں میں نئے DG SBCA کی ہدایت پر ادارے کی کارکردگی میں واضح بہتری دیکھی جا رہی ہے۔

نجی بیوٹی پارلر کے خلاف کارروائی کے دوران پولیس نفری بھی تعینات کی گئی تاکہ کسی قسم کی مزاحمت یا ہنگامہ آرائی سے بچا جا سکے۔ SBCA ٹیم نے پیشہ ورانہ انداز میں کارروائی کرتے ہوئے بلڈنگ کو مکمل طور پر گرا دیا اور موقع سے غیر قانونی تعمیراتی مواد بھی ہٹا دیا۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ نجی بیوٹی پارلر کے مالک کو SBCA کی جانب سے پہلے نوٹس بھی جاری کیا گیا تھا، مگر اس نے کوئی جواب نہیں دیا اور تعمیر کا کام جاری رکھا۔ اس ضد اور قانون شکنی کے باعث SBCA کو سخت کارروائی کرنا پڑی۔

SBCA افسران کا کہنا ہے کہ شہر بھر میں غیرقانونی تعمیرات کے خلاف مہم جاری رہے گی اور جہاں بھی خلاف ورزی نظر آئی، وہاں کارروائی ہو گی۔ عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی غیرقانونی تعمیر کی اطلاع فوری طور پر SBCA کنٹرول روم یا علاقائی دفتر کو دیں تاکہ بروقت کارروائی کی جا سکے۔

یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر SBCA کے کسی افسر نے غیرقانونی تعمیرات کو نظر انداز کیا یا چشم پوشی کی، تو اس کے خلاف بھی محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔

SBCA کی اس بروقت اور موثر کارروائی سے یہ بات ظاہر ہو گئی ہے کہ ادارہ اب فعال انداز میں کام کر رہا ہے اور شہر کو غیرقانونی تعمیرات سے پاک کرنے کے لیے سنجیدہ ہے۔ اس قسم کی سخت کارروائیاں مستقبل میں دوسرے تعمیراتی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے بھی وارننگ ہیں۔

 

70 / 100 SEO Score

One thought on “گلشنِ اقبال میں غیرقانونی تعمیر کا خاتمہ، SBCA نے نجی بیوٹی پارلر مسمار کر دیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!