کورنگی میں پانی کا بحران، غیر قانونی واٹر ہائیڈرنٹس سرگرم، فنکشنل لیگ کا سخت ردعمل

کراچی: ڈسٹرکٹ کورنگی کے مختلف علاقے، جن میں ناصر جمپ، چکرا گوٹھ، کورنگی کراسنگ اور قیوم آباد شامل ہیں، ان دنوں شدید پانی کی قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔ شہریوں کو صاف پانی جیسی بنیادی سہولت سے محروم کر دیا گیا ہے، جس کے باعث وہ پرائیویٹ واٹر ٹینکرز کے مہنگے داموں خریدنے پر مجبور ہیں۔

گلشنِ اقبال میں غیرقانونی تعمیر کا خاتمہ، SBCA نے نجی بیوٹی پارلر مسمار کر دیا

تشویشناک امر یہ ہے کہ انہی علاقوں میں غیر قانونی واٹر ہائیڈرنٹس بدستور سرگرم ہیں۔ زیر زمین پانی کو صنعتی پیمانے پر نکال کر تجارتی بنیادوں پر فروخت کیا جا رہا ہے، جو نہ صرف قانون کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ انسانی حقوق کی سنگین پامالی بھی ہے۔

پاکستان مسلم لیگ فنکشنل ڈسٹرکٹ کورنگی کے صدر تنویر چوہدری نے اس صورتِ حال پر شدید ردعمل دیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کورنگی کو تحریری درخواست جمع کرائی ہے۔ درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ:

  • غیر قانونی واٹر ہائیڈرنٹس کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کی جائے؛

  • پانی کی عوام تک منصفانہ فراہمی کے لیے کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ (KWSB) کے تعاون سے ہنگامی اقدامات کیے جائیں؛

  • پانی کی چوری کو پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 430 کے تحت قابلِ سزا جرم قرار دے کر کارروائی کی جائے۔

تنویر چوہدری نے کہا کہ آئین پاکستان کا آرٹیکل 9 ہر شہری کو زندگی اور بنیادی سہولیات کی ضمانت دیتا ہے۔ "جب عوام پانی کے لیے ترس رہے ہوں اور واٹر مافیا عوامی وسائل پر ناجائز قبضہ کر کے پیسہ کما رہا ہو، تو یہ مجرمانہ غفلت ہے،” انہوں نے کہا۔

انہوں نے انتظامیہ سے اپیل کی کہ وہ ناصر جمپ، چکرا گوٹھ، کورنگی کراسنگ اور قیوم آباد جیسے متاثرہ علاقوں میں ترجیحی بنیادوں پر کارروائی کرے، تاکہ عوام کو ان کا بنیادی حق واپس دلایا جا سکے۔

سول سوسائٹی، مقامی آبادی اور سماجی تنظیموں نے بھی تنویر چوہدری کے مؤقف کی مکمل حمایت کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

52 / 100 SEO Score

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!