اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی زیر صدارت جعلی ادویات کے خاتمے کے لیے 2D بارکوڈ نظام پر عمل درآمد کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔
یومِ آزادی: قربانی، عزم اور قومی وقار کی تجدید کا دن — مجیب الرحمان شامی
ترجمان وزارت صحت کے مطابق اجلاس میں ڈریپ کے سی ای او، فارما بیورو اور پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (PPMA) کے چیف ایگزیکٹو افسران اور دیگر اعلیٰ عہدیداران نے شرکت کی۔
اجلاس میں 2D بارکوڈ سسٹم کے نفاذ پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا اور اس پر عملدرآمد کا مکمل لائحہ عمل وزیر صحت کے سامنے پیش کیا گیا۔ مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ اسٹیک ہولڈرز کی قیمتی تجاویز کو تسلیم کرتے ہوئے اس اقدام کے لیے فارما انڈسٹری نے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے۔
وزیر صحت نے کہا کہ "ڈریپ کی ڈیجیٹائزیشن کے بعد جعلی ادویات کا خاتمہ ناگزیر ہو چکا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک انقلابی منصوبے کا آغاز کیا جا رہا ہے جو دوا سازی کی صنعت کے لیے ایک تاریخی قدم ثابت ہوگا۔”
انہوں نے کہا کہ جعلی ادویات نہ صرف مریضوں کے لیے خطرناک ہیں بلکہ اس سے فارما انڈسٹری کی ساکھ اور برآمدات بھی متاثر ہوتی ہیں۔ "اس اقدام سے مریضوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے گا اور انڈسٹری کی برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا،” انہوں نے مزید کہا۔
فارما انڈسٹری کے نمائندگان نے وزیر صحت کے اس اقدام کو "تاریخی اور انقلابی” قرار دیتے ہوئے مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔
مزید پیش رفت کے لیے 20 اگست 2025 کو اس منصوبے کی فالو اپ میٹنگ منعقد کی جائے گی۔
