الکوثر ویلفیئر فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام خانقاہ قادریہ رضویہ مجیدیہ کے 32ویں یومِ تاسیس کی مناسبت سے منعقدہ ’’سیمینار یومِ رضا‘‘ میں ممتاز علمائے کرام اور دانشوروں نے امام احمد رضا خان بریلوی کی خدمات کو
خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی تعلیمات کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔
سیمینار سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے شیخِ طریقت پروفیسر ڈاکٹر مجیداللہ قادری نے کہا کہ امام احمد رضا کی تعلیمات مسلمانوں کے ایمان و عقائد کے تحفظ کی ضامن ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ’’نصابِ تحفظِ ایمان‘‘ کے نام سے ایک کتاب مرتب کی ہے جسے مفت تقسیم کیا جائے گا۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی کرنل (ر) جواد رضا خان نے کہا کہ امام احمد رضا نے برصغیر میں اسلام مخالف تحریکوں کا مؤثر تعاقب کیا اور مسلمانوں کو فرقہ واریت سے بچانے کے لیے عظیم علمی خدمات انجام دیں۔
مفتی عبدالجبار نقشبندی نے کہا کہ خانقاہی نظام صرف روحانیت کا مرکز نہیں بلکہ عقائد کے تحفظ اور تربیت کا مؤثر ذریعہ بھی ہے۔
ڈاکٹر فریدالدین قادری نے کہا کہ امام احمد رضا کی فتاویٰ نویسی اور نعتیہ ادب دلوں کو جِلا بخشتے ہیں، اور انہی تعلیمات کو ڈاکٹر مجیداللہ قادری نئی نسل تک پہنچا رہے ہیں۔
ڈاکٹر سید شمیل قادری نے کہا کہ تعلیماتِ رضا نے سلسلہ قادریہ اور خانقاہی نظام کو تقویت دی، جب کہ ڈاکٹر مجیداللہ قادری نے اعلیٰ حضرت کی کتب کو آسان پیرائے میں دوبارہ پیش کر کے قابلِ قدر خدمت انجام دی ہے۔
علامہ فیصل عزیز بندگی نے کہا کہ آج کے فتنے بھرے دور میں کامل شیخ کی صحبت نعمت ہے، اور ڈاکٹر مجیداللہ قادری 32 سال سے اسی فیض رسانی کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔
مولانا غلام رضا جہانگیری نے کہا کہ اعلیٰ حضرت کا سلسلہ قادریہ تھا، بریلوی کوئی نیا فرقہ نہیں بلکہ عقائدِ اہل سنت کا احیاء ہے۔
تقریب میں راحیل انجم نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔ تلاوت، نعت اور درود تاج کے بعد صاحبزادہ محمد موسیٰ رضا قادری نے سپاس نامہ پیش کیا اور بتایا کہ ڈاکٹر مجیداللہ قادری 45 سال سے تعلیماتِ رضا کو عالمی سطح پر عام کر رہے ہیں اور اب تک 70 سے زائد کتب تصنیف کر چکے ہیں۔
تقریب میں قاری مبیس احمد نعیمی اور مولانا ابرار حسین نے صلوٰۃ و سلام کا نذرانہ پیش کیا، اختتامی دعا علامہ عبدالجبار نقشبندی نے کرائی۔
شرکاء کو ’’مجلہ الکوثر‘‘، ’’نصاب تحفظ ایمان‘‘ کی مفت کاپی اور طعام بھی پیش کیا گیا۔
تصویر کی وضاحت:
سیمینار یوم رضا سے کرنل(ر) جواد رضا خاں، ڈاکٹر مجیداللہ قادری، علامہ عبدالجبار نقشبندی، ڈاکٹر فریدالدین قادری، ڈاکٹر سید شمیل قادری، علامہ فیصل عزیز بندگی، مولانا غلام رضا جہانگیری، انجینئر صاحبزادہ محمد موسیٰ رضا، حکیم کاشف قادری اور راحیل انجم خطاب کرتے ہوئے۔
