یومِ شہداء پولیس 2025 کے موقع پر ایس ایس پی ملیر ڈاکٹر عبدالخالق نے یادگارِ شہداء پر حاضری دی، پھولوں کی چادر چڑھائی، فاتحہ خوانی کی، اور شہداء کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر پولیس کے چاق و چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا اور شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔
تھرکول انرجی بورڈ میں جشنِ آزادی و معرکۂ حق کی تقریب وزیر توانائی ناصر شاہ نے کیک کاٹ کر افتتاح کیا
تقریب میں شہداء کے اہل خانہ، پولیس افسران، جوانوں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جو اپنے پیاروں کی قربانیوں کو یاد کرنے کے لیے موجود تھے۔
ایس ایس پی ملیر نے کہا:
"یہ وردی اختیار نہیں، ایک امانت ہے — شہداء کی امانت۔ جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر اس وطن کے امن کو خون سے سینچا۔”
یومِ شہداء پولیس کے موقع پر پورا ملک اُن بہادر جوانوں کو سلام پیش کر رہا ہے، جنہوں نے بدامنی، دہشت گردی اور جرائم کے خلاف جنگ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ان کی قربانیاں آج بھی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
جس جذبے سے 1965ء کی جنگ میں افواجِ پاکستان نے دشمن کو شکست دی، اُسی ولولے کے ساتھ پولیس کے جانباز سپاہی ہر روز عوام کی جان و مال کی حفاظت کے لیے میدان میں موجود ہیں۔
ان شہداء کی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے پولیس حکام نے اہلِ خانہ کو یقین دلایا کہ:
"ان کے پیاروں کی قربانیاں کبھی فراموش نہیں کی جائیں گی۔ ہم ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، ان کے بچوں کی تعلیم، صحت اور بہتر زندگی کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھیں گے۔”
پولیس کے کردار کو سراہتے ہوئے ایس ایس پی ملیر نے کہا کہ جیسے پاک فوج نے ضربِ عضب، ردالفساد، اور دیگر آپریشنز میں دہشت گردی کا خاتمہ کیا، ویسے ہی پولیس نے اپنے حصے کا فرض نبھاتے ہوئے جرائم کے خاتمے اور شہریوں کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کیا۔

