سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے نے، سینیٹر جام سیف اللہ خان کی سربراہی میں، آج پاکستان ریلوے کے ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ (ڈی ایس) آفس کراچی کا دورہ کیا اور محکمے کو درپیش آپریشنل، مالی اور حفاظتی چیلنجز
پر تفصیلی بریفنگ حاصل کی۔
سون ہیونگ من نے اسپرس کو جذباتی الوداع کہا سیئول میں آخری میچ میں آنکھیں نم
ریلوے حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ محکمہ اس وقت شدید مالی دباؤ کا شکار ہے، بالخصوص پنشن کی مد میں بڑھتے ہوئے اخراجات نے سالانہ بجٹ کا بڑا حصہ نگل لیا ہے، جو دیگر آپریشنل اور ترقیاتی سرگرمیوں میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ اس تناظر میں کمیٹی نے اس مسئلے کو وزارتِ خزانہ کے سامنے اٹھانے اور پنشن کے نظام میں پائیدار اصلاحات کی سفارش کا عندیہ دیا۔
دورے کے دوران ریلوے آپریشنز کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر بھی روشنی ڈالی گئی، خصوصی طور پر کراچی تا حیدرآباد سیکشن کو ایک اہم راہداری قرار دیتے ہوئے اس پر اضافی توجہ دی گئی۔ حکام نے بتایا کہ ایک جامع سیکیورٹی پلان پر عملدرآمد جاری ہے، جس میں مانیٹرنگ سسٹم کی بہتری، قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطے اور سیکیورٹی انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن شامل ہے۔
ریلوے حکام نے کمیٹی کو موجودہ اور آئندہ اصلاحاتی اقدامات پر بھی آگاہ کیا، جن میں اسٹیشنوں کی جدید کاری، نئی کوچز کی خریداری، اور سگنلنگ نظام کی بہتری شامل ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد پاکستان ریلوے کی کارکردگی اور عوامی اعتماد کو بحال کرنا ہے۔
کمیٹی کے ارکان نے مقامی ریلوے انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ان کے مشاہدات، سفارشات اور سامنے آنے والے مسائل کو اعلیٰ حکام تک پہنچایا جائے گا تاکہ مؤثر اور بروقت فیصلے کیے جا سکیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ریلوے کے مالی و انتظامی ڈھانچے کی بہتری کے لیے ہرممکن تعاون جاری رکھے گی، تاکہ محکمہ خود انحصاری اور پائیداری کی طرف گامزن ہو سکے۔

