ٹوٹنہم ہاٹ پور کے کپتان سون ہیونگ من نے اتوار کے روز سیئول ورلڈ کپ اسٹیڈیم میں 64,773 شائقین کے سامنے اپنے کلب اسپرس کے لیے آخری میچ کھیلتے ہوئے مداحوں کو جذباتی الوداع کہا۔ سون کو ان کے ساتھی کھلاڑیوں اور نیو کیسل یونائیٹڈ کے کھلاڑیوں کی جانب سے گارڈ آف آنر دیا گیا، اور اسٹیڈیم میں ایک جذباتی لمحہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب وہ روتے ہوئے میدان سے باہر گئے۔
برونو فرنینڈس کی شاندار کارکردگی مانچسٹر یونائیٹڈ نے ایورٹن سے ڈرا کر کے سمر سیریز ٹائٹل جیت لیا
33 سالہ سون ہیونگ من، جو 2015 میں جرمن کلب بائر لیورکوزن سے اسپرس کا حصہ بنے، 2026 تک معاہدے میں بندھے ہیں لیکن وہ ایک دہائی بعد کلب کو خیرباد کہہ رہے ہیں۔ انہوں نے رواں سال مئی میں مانچسٹر یونائیٹڈ کے خلاف یوروپا لیگ فائنل جیت کر اسپرس کو 17 سال بعد ٹرافی دلائی تھی۔
اتوار کے میچ میں، اسپرس کے برینن جانسن نے چوتھے منٹ میں پہلا گول کیا جبکہ نیو کیسل کے ہاروی بارنس نے 38ویں منٹ میں مقابلہ برابر کر دیا۔ میچ 1-1 سے برابر رہا۔ سون کو 65ویں منٹ میں محمد قدوس کی جگہ میدان سے ہٹایا گیا۔
میچ کے بعد جذبات سے لبریز گفتگو کرتے ہوئے سون نے کہا،
’’میں نے نہیں سوچا تھا کہ میں روؤں گا، لیکن اس ٹیم سے جدا ہونا آسان نہیں ہے جس کے ساتھ اتنے لمحات گزارے ہوں۔ میں بہت خوش ہوں، یہ لمحہ میرے لیے ناقابل فراموش ہے۔‘‘
سون نے مزید کہا کہ ان کا کیریئر ابھی ختم نہیں ہوا اور وہ شائقین کے لیے خوشیاں لانے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ انہوں نے اپنی اگلی منزل کا انکشاف نہیں کیا، تاہم برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق وہ ممکنہ طور پر امریکی کلب لاس اینجلس ایف سی (LAFC) سے منسلک ہو سکتے ہیں۔
اسپرس کے منیجر تھامس فرینک نے کہا کہ،
’’سون کے لیے ساتھی کھلاڑیوں اور نیو کیسل کے کھلاڑیوں کا احترام قابلِ دید تھا۔ ڈریسنگ روم میں بھی جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے۔‘‘
نیو کیسل کے منیجر ایڈی ہو نے سون کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ،
’’وہ صرف ایک شاندار کھلاڑی ہی نہیں، بلکہ ایک باوقار انسان بھی ہے، اور یقیناً پریمیئر لیگ کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں سے ایک ہے۔‘‘
دوسری جانب، اسپرس کے انگلش مڈفیلڈر جیمز میڈیسن کو میچ کے 75ویں منٹ میں میدان میں لایا گیا، لیکن وہ گھٹنے کی شدید تکلیف میں مبتلا ہو کر 86ویں منٹ میں اسٹریچر پر میدان سے باہر لے جایا گیا۔ ان کی انجری پر مزید طبی معائنہ متوقع ہے۔
