اسلام آباد (اسٹاف رپورٹر) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان پرامن مقاصد کے لیے ایران کے جوہری پروگرام کی مکمل حمایت کرتا ہے اور اس کے حق میں ایران کے ساتھ کھڑا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
ماڈل کالونی میں جماعت اسلامی کا ترقیاتی مشن، یوسی 2 میں چھ منصوبوں کا سنگِ بنیاد
وزیراعظم نے کہا کہ ایران پاکستان کا قریبی برادر ملک ہے، اور صدر پزشکیان کا پہلا دورہ پاکستان دوطرفہ تعلقات کے نئے باب کا آغاز ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ملاقات میں دوطرفہ تعاون، معاہدوں، سیکیورٹی اور تجارت سمیت مختلف امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی اور کئی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط بھی کیے گئے ہیں جنہیں جلد باقاعدہ معاہدوں کی شکل دی جائے گی۔
تجارتی تعاون کا نیا ہدف
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور ایران نے باہمی سالانہ تجارت کو 10 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے، جبکہ سرحدی تجارت، مشترکہ اقتصادی زونز اور سیکیورٹی تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔
علاقائی صورتحال: فلسطین و کشمیر پر اظہارِ یکجہتی
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتا ہے اور غزہ کے مظلوم فلسطینیوں کی آواز ہر عالمی فورم پر بلند کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں اور پاکستان کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔
ایرانی صدر کی گفتگو: اتحادِ امت پر زور
صدر مسعود پزشکیان نے اپنی گفتگو کا آغاز قرآن پاک کی آیت سے کیا اور مسلم امہ کے اتحاد کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے پاکستان کی مہمان نوازی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایران، پاکستان کے ساتھ سیاسی، معاشی، ثقافتی اور عوامی سطح پر تعاون کو مزید فروغ دینا چاہتا ہے۔
انہوں نے علامہ اقبالؒ کی شاعری کو ایران کیلئے فکری رہنمائی قرار دیا اور کہا کہ اقبال کی فکر امت مسلمہ کی بیداری اور اتحاد کی بنیاد ہے۔
عالمی امن کیلئے ایران کا موقف
ایرانی صدر نے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کو بدامنی کا اصل سبب قرار دیتے ہوئے کہا کہ غزہ، لبنان اور شام پر اسرائیلی حملے اس کی توسیع پسندانہ سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل سے اسرائیلی مظالم کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔
