کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اعلان کیا ہے کہ اس سال جشنِ آزادی صرف 14 اگست تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ یکم اگست سے 14 اگست تک پورے دو ہفتے بھرپور تقریبات کے ذریعے ’’معرکۂ حق‘‘ کے تھیم کے تحت منایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مئی میں ایک عظیم قومی کامیابی حاصل کی جسے ’’معرکۂ حق‘‘ قرار دیا گیا ہے، اور اسی مناسبت سے آزادی کے دن کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے جشن کو توسیع دی جا رہی ہے۔
پیٹرول کی قیمت میں کمی یا اضافہ؟ یکم اگست سے متعلق اہم حقائق اور تجزیہ سامنے آگیا
کراچی میں سینئر وزراء شرجیل انعام میمن اور ناصر حسین شاہ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وفاقی اور تمام صوبائی حکومتیں اس قومی جشن کو متحد ہوکر منائیں گی، اور جو شرکت نہیں کرے گا وہ خود ہی الگ نظر آئے گا۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ عوامی جوش و خروش کو فروغ دینے کے لیے گاڑی، دکان، عمارت یا مکان کی بہتر سجاوٹ پر انعام دیا جائے گا۔ انہوں نے میڈیا سے تعاون کی اپیل کی اور کہا کہ جو افراد یا ادارے اپنی عمارتوں کو سجائیں گے، میڈیا ان کی نشاندہی کرے تاکہ حکومت ان کی حوصلہ افزائی کر سکے۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ ملک بھر میں مختلف سرگرمیوں کا انعقاد کیا جائے گا جن میں ونٹیج کار اور ہیوی بائیکس ریلیاں، خواتین کے میلے، پینٹنگ، گائیکی کے مقابلے، رکشہ ریلی، کلچرل شو، اور مشاعرہ شامل ہوں گے۔ کراچی میں سی ویو پر جشنِ آزادی کی مرکزی تقریب ہوگی جبکہ حیدرآباد کے رانی باغ اور سکھر میں بھی ثقافتی تقریبات منعقد کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ تمام سرکاری و نجی عمارتوں پر پرچم لہرائے جائیں گے، ضلعی سطح پر پرچم کشائی کی تقاریب ہوں گی، اور اسکول معمول کے مطابق کھلے رہیں گے جہاں محکمہ تعلیم خصوصی پروگرام ترتیب دے رہا ہے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ ہمیشہ قومی مواقع پر قائدانہ کردار ادا کرتا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔ انہوں نے بتایا کہ 9 سے 11 اگست تک شاہ عبداللطیف بھٹائی کے عرس کے دوران بھی جشنِ آزادی کی جھلک شامل ہوگی۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو جشنِ آزادی میں شرکت کی باضابطہ دعوت دی جائے گی اور ملک دشمن عناصر کی کسی بھی کوشش کو پولیس، رینجرز اور پاک فوج مؤثر انداز میں ناکام بنائیں گے۔
