کراچی (کرائم رپورٹر) اداکارہ و ماڈل حمیرا اصغر کے قتل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں فلیٹ سے ملنے والے سفید پاؤڈر کی ابتدائی کیمیائی رپورٹ پولیس کو موصول ہو گئی ہے۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق فلیٹ کے مختلف حصوں سے ملنے والے برتنوں میں موجود سفید پاؤڈر دراصل سمندری نمک ثابت ہوا ہے، جو کہ فلیٹ کے کچن میں موجود آیوڈائزڈ نمک سے مختلف ہے۔
جشنِ آزادی 14 دن منایا جائے گا، تھیم ’’معرکۂ حق‘‘ ہوگا: وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ
رپورٹ کے مطابق، فلیٹ سے مجموعی طور پر 6 نمونے اکٹھے کیے گئے تھے، جن میں سے 5 مختلف پیالوں سے لیے گئے۔ ان تمام پیالوں میں سمندری نمک پایا گیا جبکہ کچن سے ملنے والا نمک آیوڈائزڈ ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سمندری نمک ممکنہ طور پر لاش کی بدبو کم کرنے کے لیے استعمال کیا گیا، تاہم اس کی حتمی وجوہات اب بھی واضح نہیں ہو سکیں۔
واضح رہے کہ 8 جولائی کو کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس فیز 6 میں واقع ایک فلیٹ سے حمیرا اصغر کی لاش برآمد ہوئی تھی، جس کے قریب مختلف مقامات پر سفید پاؤڈر سے بھرے مٹی کے برتن ملے تھے۔ پولیس نے ابتدائی طور پر یہی شبہ ظاہر کیا تھا کہ یہ پاؤڈر بدبو کو روکنے کے لیے استعمال کیا گیا، کیونکہ موقع پر لاش سے کسی قسم کی تعفن یا بدبو نہیں آ رہی تھی، جو عام طور پر ایسی صورت میں موجود ہوتی ہے۔
حکام کے مطابق، تمام نمونے لیبارٹری بھجوائے گئے تھے جن کی رپورٹ اب تفتیشی ٹیم کو موصول ہو چکی ہے۔ اداکارہ کے فلیٹ سے ان کے ملبوسات بھی قبضے میں لے کر فرانزک تجزیے کے لیے بھجوائے گئے ہیں، جبکہ کیس کے دیگر پہلوؤں کی بھی باریک بینی سے چھان بین جاری ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اگرچہ موجودہ رپورٹس سے سفید پاؤڈر کی نوعیت تو سامنے آ چکی ہے، تاہم اداکارہ کی موت کی وجہ تاحال واضح نہیں ہو سکی۔
تحقیقات جاری ہیں اور پولیس کیس کو تمام ممکنہ زاویوں سے دیکھ رہی ہے۔
