پیٹرول کی قیمت میں کمی یا اضافہ؟ یکم اگست سے متعلق اہم حقائق اور تجزیہ سامنے آگیا

اسلام آباد : ملک بھر میں یکم اگست سے پیٹرول کی قیمت میں ممکنہ رد و بدل کے حوالے سے عوام میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ 15 جولائی کو حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے 36 پیسے فی لیٹر کا بڑا اضافہ کیا تھا، جس پر سیاسی جماعتوں سمیت عوام نے شدید تنقید کی تھی۔

ٹرمپ کا بھارت پر سخت مؤقف، تجارتی معاملات پر بھاری ٹیرف کا عندیہ

قیمتوں میں رد و بدل سے قبل عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت اور ڈالر کے تبادلہ نرخ کو مدنظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ 15 جولائی کو جب قیمتوں میں اضافہ ہوا تھا، اس وقت خام تیل 66.70 ڈالر فی بیرل تھا جو اب بڑھ کر 70.25 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچا ہے۔

ادھر امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی بہتری دیکھی گئی ہے۔ 15 جولائی کو ڈالر کا ریٹ 284.7 روپے تھا، جو اب کم ہوکر 283.19 روپے پر آ گیا ہے۔ تاہم یہ بہتری قیمتوں پر خاطر خواہ اثر ڈالنے کے لیے ناکافی سمجھی جا رہی ہے۔

آئی ایم ایف سے طے شدہ معاہدے کے تحت حکومت پیٹرولیم لیوی کو 75 روپے سے بڑھا کر 100 روپے فی لیٹر تک لے جانے کی پابند ہے، تاہم فی الوقت یہ لیوی مکمل طور پر لاگو نہیں کی گئی۔ موجودہ قیمت میں 75.52 روپے پیٹرولیم لیوی اور 2.50 روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی شامل ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر 2.5 سے 5 روپے تک اضافی لیوی عائد کیے جانے کا امکان موجود ہے۔ اگرچہ بعض ذرائع 9 سے 10 روپے فی لیٹر کمی کی امید ظاہر کر رہے ہیں، لیکن ماہرینِ معیشت کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں اضافہ اس کمی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔

ماہرین کے تجزیے کے مطابق موجودہ حالات میں 2 سے 3 روپے فی لیٹر تک کا اضافہ زیادہ حقیقت پسندانہ امکان ہے۔

وزارتِ خزانہ پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا حتمی اعلان اوگرا کی سفارش پر 31 جولائی کی شب کرے گی۔

66 / 100 SEO Score

One thought on “پیٹرول کی قیمت میں کمی یا اضافہ؟ یکم اگست سے متعلق اہم حقائق اور تجزیہ سامنے آگیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!