کراچی: وزیر بلدیات سندھ سعید غنی کی زیر صدارت صوبے بھر میں مخدوش اور خطرناک قرار دی گئی عمارتوں اور غیر قانونی تعمیرات سے متعلق بنائی گئی اعلیٰ سطحی کمیٹی کا تیسرا اہم اجلاس منعقد ہوا۔
کورنگی میں پولیس کی بڑی کارروائی، گٹکا ماوا بنانے والی فیکٹری پکڑی گئی، دو ملزمان گرفتار
اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری لوکل گورنمنٹ سندھ وسیم شمشاد، کمشنر کراچی سید حسن نقوی، ڈی جی ایس بی سی اے شاہ میر بھٹو، چیئرمین آباد حسن بخشی، وائس چیئرمین سید افضال حمید، پاکستان انجنیئرنگ کونسل کے سینئر نائب چیئرمین شروش ایچ لودھی، آرکیٹیکٹ سید عارف شاہ، فریال سکندر، ڈپٹی کمشنر ساؤتھ جاوید کھوسو، ایم سی لیاری حماد این ڈی خان سمیت دیگر متعلقہ افسران شریک ہوئے۔
اجلاس میں کمشنر کراچی نے گزشتہ اجلاس کی پیش رفت سے متعلق رپورٹ پیش کی جبکہ ڈپٹی کمشنر ساؤتھ نے آگاہ کیا کہ صدر اور لیاری زون میں مخدوش عمارتوں کے ازسرنو سروے کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔
ڈی سی ساؤتھ کے مطابق جن 59 عمارتوں کو خالی کرایا گیا، ان سے متاثرہ خاندانوں کے اسٹیٹس سے متعلق مکمل رپورٹ تیار کرلی گئی ہے۔ وزیر بلدیات نے ہدایت کی کہ تمام متاثرہ اور مخدوش عمارتوں کے سروے کا عمل جلد از جلد مکمل کیا جائے۔
سعید غنی نے آباد کو ہدایت دی کہ خالی کرائی گئی 59 عمارتوں کی دوبارہ تعمیر یا دیگر ممکنہ آپشنز کے لیے لانگ ٹرم پلاننگ کی رپورٹ ایک ہفتے میں پیش کی جائے۔
وزیر بلدیات نے واضح کیا کہ سندھ بھر میں 740 خطرناک قرار دی گئی عمارتوں کے علاوہ باقی تمام مشتبہ عمارتوں کے سروے کے عمل میں بھی تیزی لائی جائے۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ اجلاس میں سندھ اسمبلی کی تمام پارلیمانی جماعتوں کے نمائندوں کو خصوصی طور پر مدعو کیا جائے گا تاکہ انہیں کمیٹی کی اب تک کی پیش رفت سے آگاہ کیا جا سکے۔
سعید غنی نے بتایا کہ آئندہ اجلاس کے بعد کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ وزیر اعلیٰ سندھ کو پیش کی جائے گی تاکہ تجاویز پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔
وزیر بلدیات نے ڈی جی ایس بی سی اے اور ڈپٹی کمشنر ساؤتھ کو ہدایت دی کہ معزز عدلیہ کی جانب سے جس 7 عمارتوں کے دوبارہ سروے اور متاثرین کی بحالی سے متعلق رپورٹ طلب کی گئی ہے، اس میں تمام زمینی حقائق اور اٹھائے گئے اقدامات کی تفصیل عدالت کے روبرو پیش کی جائے۔
