گوادر کشتی حادثہ: باپ کے بعد بیٹے کی لاش بھی گھر پہنچی، علی اکبر شاہ گوٹھ میں کہرام

کراچی: گوادر کے سمندر میں پیش آنے والے کشتی حادثے میں جاں بحق ہونے والے کراچی کے باپ بیٹے کی لاشیں علیحدہ علیحدہ دنوں میں ورثا کے حوالے کر دی گئیں، جس کے بعد ابراہیم حیدری کے علاقے علی اکبر شاہ گوٹھ میں کہرام مچ گیا۔

ایف آئی اے بلوچستان کی بڑی کارروائی، حوالہ ہنڈی اور غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث 16 افراد گرفتار

ماہی گیر ایوب کی تدفین کے بعد اُس کے نوجوان بیٹے ذیشان کی میت گھر پہنچی تو غم سے نڈھال ماں اور بہنیں بیہوش ہو گئیں۔ علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد سوگ میں مبتلا ہوگئی، جبکہ حکومت اور متعلقہ اداروں کی بے حسی نے اہلِ علاقہ کے دکھ کو مزید بڑھا دیا۔

دونوں باپ بیٹا دیگر ماہی گیروں کے ہمراہ گوادر کے کھلے سمندر میں روزگار کے لیے گئے تھے، جب ان کی کشتی حادثے کا شکار ہوگئی۔ کشتی میں سوار چھ ماہی گیروں میں سے دو کا تعلق علی اکبر شاہ گوٹھ اور چار کا تعلق مچھر کالونی کراچی سے تھا۔

پاکستان فشر فوک فورم کے چیئرمین مہران علی شاہ نے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ

"ماہی گیر طبقہ سندھ حکومت کو سالانہ اربوں روپے ٹیکس دیتا ہے، لیکن افسوس کہ حادثے کے بعد کسی حکومتی ادارے نے متاثرہ خاندانوں کی خبر تک نہ لی۔”

انہوں نے مطالبہ کیا کہ متاثرہ خاندانوں کو فوری مالی امداد دی جائے اور ماہی گیروں کے لیے حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی یوسی 11 کے چیئرمین محمد رفیق الحسینی، وائس چیئرمین عظیم فیروزانی اور جنرل کونسلر شمس عالم فاروقی نے جاں بحق ماہی گیروں کو پارٹی کے مخلص کارکن قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ، ایم این اے اور ایم پی اے سے مطالبہ کیا کہ وہ غمزدہ خاندانوں سے ملاقات کرکے ان کی بحالی میں کردار ادا کریں۔

فشر فوک فورم کے میڈیا کوآرڈینیٹر کمال شاہ نے کہا کہ

"یہ سانحہ ماہی گیر طبقے کی محرومیوں اور حکومتی بے حسی کی ایک اور مثال ہے۔ میڈیا اور سول سوسائٹی سے اپیل ہے کہ وہ ان مظلوم خاندانوں کی آواز بنیں۔”

WhatsApp Image 2025 07 28 at 7.21.35 PM

52 / 100 SEO Score

One thought on “گوادر کشتی حادثہ: باپ کے بعد بیٹے کی لاش بھی گھر پہنچی، علی اکبر شاہ گوٹھ میں کہرام

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!