کراچی: ایسٹ زون پولیس کے نئے ڈی آئی جی فرخ لنجار نے چارج سنبھالتے ہی محکمہ پولیس میں موجود کالی بھیڑوں کے خلاف بھرپور ایکشن کا آغاز کر دیا ہے، جس کے تحت سینکڑوں اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق، ہیڈکوارٹرز میں تعینات ایسے 200 اہلکاروں کا تبادلہ کر دیا گیا ہے جو "کھانچہ سسٹم” کے تحت ماہانہ 25 ہزار روپے رشوت دے کر فرضی حاضری لگواتے اور ڈیوٹی پر حاضر ہوئے بغیر تنخواہ وصول کرتے تھے۔
تفصیلات کے مطابق، ان اہلکاروں میں سے ملیر سے 75، کورنگی سے 50 اور ایسٹ سے 75 اہلکاروں کو مختلف تھانوں میں تبادلہ کر کے ڈیوٹی پر تعینات کیا گیا ہے۔ یہ تمام اہلکار نہ صرف ڈیوٹی سے غائب رہتے تھے بلکہ تھانوں کا رخ تک نہیں کرتے تھے۔
یہ "کھانچہ سسٹم” مبینہ طور پر منشیوں اور لائن افسران کی ملی بھگت سے چل رہا تھا، جسے اب مکمل طور پر توڑ دیا گیا ہے۔ ہیڈ کوارٹرز میں تعینات منشیوں اور کمپنی کمانڈرز کو گارڈ ڈیوٹی پر منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ سسٹم کو شفاف بنایا جا سکے۔
ڈی آئی جی فرخ لنجار نے چارج سنبھالتے ہی بائیو میٹرک حاضری کا نظام فعال کیا، جس سے متعدد فرضی حاضریاں بے نقاب ہو گئیں۔ اسی نظام کے ذریعے 400 سے زائد اہلکاروں کی غیر حاضری کا انکشاف ہوا ہے جو جعلی میڈیکل سرٹیفکیٹس پر سالوں سے ڈیوٹی سے غائب تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اہلکار تنخواہ میں سے رشوت دے کر مختلف کاروبار کر رہے ہیں اور پولیس میں صرف کاغذی طور پر موجود ہیں۔ ان اہلکاروں کو وارننگ جاری کر دی گئی ہے اور اگر وہ ڈیوٹی پر واپس نہ آئے تو برخاستگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ڈی آئی جی ایسٹ زون نے واضح کیا ہے کہ پولیس میں شفافیت، احتساب اور نظم و ضبط کے اصولوں پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے گا۔
