گوادر کشتی حادثہ: چھ میں سے پانچ ماہی گیر جاں بحق، ایک زندہ بچ گیا، علاقے میں فضا سوگوار

گوادر / کراچی — گوادر کے کھلے سمندر میں پیش آنے والے افسوسناک کشتی حادثے میں کراچی سے تعلق رکھنے والے چھ ماہی گیر حادثے کا شکار ہو گئے، جن میں سے پانچ جاں بحق جبکہ ایک ماہی گیر معجزانہ طور پر زندہ بچ گیا۔ لاپتا ماہی گیروں کی لاشوں کی تلاش کے بعد ریسکیو ٹیموں نے مزید چار لاشیں نکال لیں، یوں جاں بحق افراد کی تعداد پانچ ہو گئی۔

پریڈی پولیس کی کارروائی: چوری شدہ موبائل پارٹس کی خرید و فروخت میں ملوث ملزم گرفتار

ترجمان کے مطابق ایک ماہی گیر کی لاش گزشتہ روز نکالی گئی تھی جبکہ آج مزید چار لاشیں سمندر سے برآمد کی گئیں۔ دو لاشوں کو کراچی منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ تین گوادر میں ایدھی سرد خانے میں موجود ہیں۔

مرحومین کا تعلق علی اکبر شاہ گوٹھ، ابراہیم حیدری کراچی سے بتایا جا رہا ہے۔ ایک جاں بحق ماہی گیر کی لاش ورثا کے حوالے کر دی گئی، جس کی نماز جنازہ دوپہر 1:30 بجے علی اکبر شاہ گوٹھ قبرستان میں ادا کی گئی، جس میں علاقہ مکینوں، سماجی و سیاسی رہنماؤں اور فشر کمیونٹی کے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

پیپلز پارٹی کے جنرل کونسلر شمس عالم فاروقی نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کرتے ہوئے سندھ حکومت سے فوری مالی امداد کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سمندر میں حادثات کے باعث فشر کمیونٹی ہر سال بڑے نقصان سے دوچار ہوتی ہے، جس پر حکومت کو فوری اور مؤثر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

پاکستان فشر فوک فورم کے چیئرمین مہران علی شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:

"ماہی گیر اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے جان خطرے میں ڈال کر سمندر میں جاتے ہیں، لیکن ان کی حفاظت کے لیے حکومتی سطح پر خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے جا رہے۔ سندھ کے ماہی گیر سالانہ اربوں روپے ٹیکس دیتے ہیں، اس کے باوجود ان کے لیے نہ ریسکیو سسٹم ہے، نہ حفاظتی سہولیات۔”

ان کا مطالبہ تھا کہ سندھ حکومت فوری طور پر ریسکیو سینٹرز، اسپیڈ بوٹس، اور دیگر سہولیات مہیا کرے تاکہ قیمتی جانوں کو بچایا جا سکے۔

جنازے میں یو سی 11 علی اکبر شاہ گوٹھ کے چیئرمین محمد رفیق الحسینی، وائس چیئرمین محمد عظیم فیروزانی، جنرل کونسلر محمد بلوچ، محمد رئیس ہمدرد اور دیگر معززین نے بھی شرکت کی اور لواحقین سے اظہار ہمدردی کیا۔

52 / 100 SEO Score

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!