نئی اجرک نمبر پلیٹ سندھ میں لسانی نفرت کو ہوا دینے کی کوشش ہے: آفاق احمد

کراچی: مہاجر قومی موومنٹ (MQM) کے چیئرمین آفاق احمد نے سندھ حکومت کی جانب سے جاری کی گئی اجرک ڈیزائن والی نمبر پلیٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے شہری سندھ پر ثقافتی تسلط کی ایک نئی کوشش قرار دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مہاجر قوم اپنے تاریخی اور آئینی مؤقف پر مضبوطی سے قائم ہے اور کسی بھی ثقافتی جبر کو قبول نہیں کرے گی۔

چیئرمین جوائنٹ چیفس جنرل ساحر شمشاد کی IDEF-2025 میں شرکت، ترکی و آذربائیجان سے دفاعی تعاون پر اہم ملاقاتیں

اپنے بیان میں آفاق احمد نے کہا کہ گاڑیوں کی نمبر پلیٹوں کی فیس عوام پہلے ہی ادا کرچکے ہیں، اور حکومت اگر تبدیلی چاہتی ہے تو عوام کو پرانی پلیٹ واپس کر کے بلا معاوضہ نئی پلیٹ جاری کرے۔ انہوں نے کہا کہ اجرک کو نمبر پلیٹ پر لازمی کرنا لسانیت کو فروغ دینے کے مترادف ہے، جبکہ اجرک ایک اختیاری علامت ہونی چاہیے۔

انہوں نے 1972ء میں سندھی زبان کو نافذ کرنے کی کوششوں کو یاد دلاتے ہوئے کہا کہ اُس وقت بھی مہاجر عوام نے بھرپور مزاحمت کی تھی اور بھٹو حکومت کو سندھ کو دو لسانی صوبہ تسلیم کرنا پڑا تھا۔ آج اجرک کے ذریعے ثقافت مسلط کرنے کی کوشش اسی تقسیم کو مزید گہرا کر رہی ہے۔

آفاق احمد نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے سندھی عوام اور مہاجر قوم کے درمیان نفرت پیدا کر کے سندھ کو تقسیم کیا اور مہاجر وسائل و اقتدار میں اپنے جائز حق سے محروم رہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دعویٰ جھوٹ پر مبنی ہے کہ مہاجر یہاں پناہ گزین تھے، کیونکہ قیام پاکستان کے وقت ہونے والے معاہدے کے تحت مہاجرین کو سندھ میں جائیدادوں کا حق حاصل تھا، جس پر آج بھی عملدرآمد نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ “پناہ گزین” اور “مہاجر” میں فرق ہے، مہاجر اپنی مرضی سے دین کی خاطر وطن چھوڑتا ہے اور نیا وطن اختیار کرتا ہے۔ مہاجر قوم کی اپنی زبان، ثقافت، تاریخ، نفسیاتی ردعمل اور معاشی مفاد ہے، جو بین الاقوامی اصولوں کے مطابق اسے ایک الگ قومیت بناتا ہے۔

آفاق احمد نے الزام لگایا کہ پیپلز پارٹی نے سندھ کی 90 فیصد رقم ہڑپ کر لی اور صرف 10 فیصد عوام پر خرچ کی۔ انہوں نے سیف سٹی پراجیکٹ کی ناکامی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ کراچی جیسے بڑے شہر میں 700 کیمرے بھی نہیں لگے جبکہ لاہور میں 8000 سے زائد اور کابل میں 90000 کیمرے موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اجرک نمبر پلیٹ کا اصل مقصد بھٹو کے اصل وارث بلاول بھٹو کی سیاسی پوزیشن کو بچانے کے لیے سندھ کارڈ استعمال کرنا ہے۔ آفاق احمد نے اعلان کیا کہ یکم اگست سے عوام اپنی گاڑیوں کی نمبر پلیٹوں پر اجرک کی بجائے پاکستانی پرچم پرنٹ کریں گے اور 14 اگست تک تمام گاڑیاں قومی پرچم کی نمائندگی کریں گی۔

مہاجر قومی موومنٹ نے مطالبہ کیا کہ:

اجرک نمبر پلیٹ کو اختیاری قرار دیا جائے،

جو شہری پاکستانی پرچم پرنٹ کریں، انہیں تنگ نہ کیا جائے،

جمع کی گئی فیس عوام کو واپس کی جائے،

لسانی نفرت پھیلانے کی بجائے سندھ کے وسیع تر مفاد میں پالیسی بنائی جائے۔

آخر میں آفاق احمد نے کہا کہ اگر سندھ حکومت نے اپنا رویہ نہ بدلا تو مہاجر قومی موومنٹ پرامن عوامی احتجاج، دستخطی مہم اور ریفرنڈم کے ذریعے تحریک کو مرحلہ وار آگے بڑھائے گی۔

63 / 100 SEO Score

One thought on “نئی اجرک نمبر پلیٹ سندھ میں لسانی نفرت کو ہوا دینے کی کوشش ہے: آفاق احمد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!