کراچی (تشکر نیوز) — صوبہ سندھ میں خطرناک اور غیر قانونی تعمیرات کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا آغاز ہو چکا ہے۔ وزیر بلدیات سندھ سعید غنی کی زیر صدارت اس حوالے سے قائم کمیٹی کا دوسرا اہم اجلاس ہوا، جس میں عمارتوں کی موجودہ صورتحال، مکینوں کے مسائل اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیلی غور کیا گیا۔
ایرانی وزیر داخلہ کی پاکستان سے یکجہتی ایف آئی اے ہیڈکوارٹرز میں محسن نقوی کا سخت پیغام
اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری وسیم شمشاد، کمشنر کراچی سید حسن نقوی، ڈی جی ایس بی سی اے شاہ میر بھٹو، آباد، پاکستان انجینئرنگ کونسل، کونسل آف آرکیٹیکٹس اور ڈپٹی کمشنر سائوتھ سمیت دیگر اداروں کے نمائندگان شریک ہوئے۔
ڈپٹی کمشنر سائوتھ جاوید لطیف کھوسو نے اجلاس کو بتایا کہ اب تک 61 انتہائی خطرناک عمارتوں میں سے 56 کو خالی کروا لیا گیا ہے، جبکہ باقی 5 عمارتوں سے متعلق عدالتی رپورٹ کی روشنی میں کارروائی کی جا رہی ہے۔
سعید غنی نے کہا کہ کراچی میں 588 میں سے 456 خطرناک عمارتیں صرف ڈسٹرکٹ سائوتھ میں واقع ہیں۔ مکینوں کے تحفظات کا جائزہ لیا جائے گا، اور وہ عمارتیں جو رہائش کے قابل بنائی جا سکتی ہیں، انہیں فہرست سے نکالا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ 740 خطرناک عمارتوں کا نیا سروے اگلے ہفتے مکمل کیا جائے گا، اور اس کے لیے انجنئیرنگ کونسل، آرکیٹیکٹ تنظیمیں اور آباد کے ماہرین پر مشتمل غیر جانبدار کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔
وزیر بلدیات نے واضح ہدایت دی کہ کسی بھی عمارت کو مکمل ہونے کا سرٹیفکیٹ حاصل کیے بغیر بجلی، گیس یا پانی کے کنکشن نہ دیے جائیں، بصورت دیگر متعلقہ اداروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
رجسٹرار و سب رجسٹرار کو بھی پابند کیا گیا ہے کہ عمارت کے مکمل ہونے کے سرٹیفکیٹ کے بغیر کوئی لیز یا سب لیز رجسٹر نہ کی جائے۔
غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا جائے گا، اور اگر ایس بی سی اے کے پاس وسائل نہ ہوں تو انہدام کا عمل آؤٹ سورس کیا جائے گا۔
سعید غنی نے اعلان کیا کہ خطرناک عمارتوں کی آگاہی کے لیے میڈیا مہم شروع کی جا رہی ہے اور ایک آن لائن پورٹل بھی بنایا جا رہا ہے جہاں شہری ایسی عمارتوں کی نشاندہی کر سکیں گے۔
اجلاس میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ایکٹ میں ترامیم کے لیے ڈی جی ایس بی سی اے کی زیر قیادت کمیٹی قائم کر دی گئی، جو 7 دن میں اپنی سفارشات پیش کرے گی۔
خالی کرائی گئی عمارتوں کے مکینوں کے لیے ماہانہ کرایہ 20 ہزار سے بڑھا کر 30 ہزار کر دیا گیا ہے، جس کی فوری ادائیگی کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
سعید غنی نے بتایا کہ متاثرین کی مستقل بحالی کے لیے آباد اور دیگر اداروں کو متاثرہ پلاٹس کا سروے کرکے عملی تجاویز دینے کی ہدایت کی گئی ہے، تاکہ متبادل رہائش کا دیرپا حل نکالا جا سکے۔
مزید برآں، انجینئرنگ یونیورسٹیوں سے معاہدے کر کے پورے صوبے میں عمارتوں کے جامع سروے کے لیے ان کی تکنیکی مدد حاصل کی جائے گی۔
