وفاقی اینٹی کرپشن کورٹ نے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹڈاپ) کے تمام میگا کرپشن مقدمات سے بری کردیا۔ عدالت نے 14 باقی مقدمات میں بھی گیلانی کو الزامات سے باعزت بری کرتے ہوئے فیصلہ سنایا۔
Friday, 18th July 2025
سماعت کے دوران گیلانی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے مؤقف اختیار کیا کہ تمام مقدمات میں یکساں الزام ہے کہ یوسف رضا گیلانی کے نام پر 50 لاکھ روپے کمیشن لیا گیا، حالانکہ ان کے اکاؤنٹ میں کوئی رقم منتقل نہیں ہوئی۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر پیسے گیلانی کے اکاؤنٹ میں آتے تو ان سے نکلوا لیے جاتے، وعدہ معاف گواہ کو ہی ملزم بنا دیا گیا ہے۔ عدالت نے مزید کہا کہ مقدمات میں تمام ملزمان پر یکساں نوعیت کے الزامات ہیں اور 14 سال سے لوگ دعائیں کرتے آ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ ایف آئی اے نے 2013 میں یوسف رضا گیلانی کے خلاف 26 مقدمات درج کیے تھے، جن میں سے وہ پہلے ہی 12 مقدمات میں بری ہو چکے تھے۔ اب عدالت نے بقیہ 14 مقدمات میں بھی بریت کا فیصلہ سنایا ہے۔
تحقیقات کا آغاز 2009 میں ہوا جبکہ گیلانی کو 2015 میں ان مقدمات میں بطور ملزم نامزد کیا گیا تھا۔
بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ان پر جھوٹے مقدمات بنائے گئے، جن کا مقصد صرف سیاسی انتقام تھا۔ انہوں نے کہا کہ مشکل وقت میں بھی وہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ کھڑے رہے، اور اب قانون سازی کی ضرورت ہے تاکہ غیرضروری تاخیر کا شکار کیسز ختم کیے جا سکیں۔
گیلانی نے مزید کہا کہ انہوں نے قانون سازی کی تھی کہ اگر وعدہ معاف گواہ کیس ثابت نہ کر سکے تو اسے بھی سزا دی جائے جیسی کسی مجرم کو دی جاتی ہے۔
فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ عدالت نے انصاف کیا اور تمام مقدمات سے بریت دے دی۔ انہوں نے خصوصی عدالتوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان عدالتوں کا دائرہ اختیار ہائیکورٹ کے کنٹرول سے باہر ہو جاتا ہے، اس لیے ملک میں انصاف کے لیے تمام مقدمات کو معمول کی عدالتوں میں منتقل کیا جانا چاہیے۔
یاد رہے کہ 2014 میں مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں یوسف رضا گیلانی اور مخدوم امین فہیم کے خلاف ٹڈاپ کرپشن کیسز درج کیے گئے تھے، جن میں مارچ 2018 کو فرد جرم عائد کی گئی تھی۔
