لاڑکانہ: چانڈکا اسپتال کی ایمرجنسی میں اُس وقت خوف و ہراس پھیل گیا جب ایک نشے میں دھت مریض نے برہنہ ہوکر ڈاکٹروں کو گالیاں دینا شروع کر دیں اور خود کو پولیس اہلکار ظاہر کرتے ہوئے اسپتال کے عملے کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔
دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کا بڑا بریک ڈاؤن، کراچی کو 100 ملین گیلن پانی کی قلت کا سامنا
واقعے کے مطابق مذکورہ شخص کو ریسکیو 1122 کی ایمبولینس کے ذریعے اسپتال لایا گیا تھا، جہاں ڈاکٹر کی جانب سے تکلیف پوچھنے پر اُس نے اچانک اپنے کپڑے اتار دیے اور بلند آواز میں اسپتال میں موجود افراد کو دھمکانے لگا۔
برہنہ شخص اسپتال میں دعویٰ کرتا رہا کہ وہ پولیس کا ملازم ہے اور کسی کو نہیں چھوڑے گا۔ صورتحال اس وقت مزید خراب ہوئی جب مریضوں کے تیمارداروں اور اسپتال اسٹاف نے برہنہ شخص کو گھیر کر تشدد کا نشانہ بنایا اور بعد ازاں پولیس کے حوالے کر دیا۔
پولیس کے مطابق برہنہ شخص کی شناخت شاہد اسران کے نام سے ہوئی ہے جو محکمہ ایکسائیز اینڈ ٹیکسیشن قمبر میں اسسٹنٹ ای ٹی او کے طور پر تعینات ہے۔ مزید انکشاف ہوا ہے کہ وہ اپنے رشتے دار کے قتل کیس میں 12 سال جیل کی سزا بھی کاٹ چکا ہے۔
پولیس نے ملزم کو حراست میں لے کر سول لائین تھانے منتقل کر کے لاک اپ میں بند کر دیا ہے۔ ملزم کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔
