نئی دہلی: بھارتی شہر گروگرام کے پوش علاقے سوشانت لوک میں افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں سابق انڈر 18 ٹینس اسٹار رادھیکا یادو کو ان کے والد دیپک یادو نے گولیاں مار کر قتل کر دیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کے روز پیش آیا، جب 49 سالہ دیپک یادو نے اپنی 25 سالہ بیٹی رادھیکا کو پانچ گولیاں ماریں، جن میں سے تین کمر میں لگیں، اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گئیں۔
ملک بھر میں مون سون کا طاقتور اسپیل، 13 تا 17 جولائی شدید بارشوں اور سیلاب کا خدشہ، الرٹ جاری
پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم دیپک یادو کو گرفتار کر لیا، جس نے دوران تفتیش اعتراف کیا کہ وہ اس بات سے ذہنی دباؤ میں تھا کہ لوگ اسے بیٹی کی کمائی پر پلنے والا کہتے تھے۔ پولیس ترجمان سندیپ سنگھ کے مطابق دیپک یادو بیٹی کی ٹینس اکیڈمی بند کرانا چاہتا تھا لیکن رادھیکا کے انکار پر اس نے غصے میں آکر انتہائی قدم اٹھایا۔
دیپک کا کہنا ہے کہ وہ خود مالی طور پر مستحکم ہے اور کرایہ داری کی آمدن پر گزر بسر کر رہا تھا، اسے بیٹی کی آمدنی کی ضرورت نہیں تھی، لیکن سماجی طعنوں نے اسے توڑ دیا۔ اس نے پولیس کو یہ بھی بتایا کہ وہ اپنی بیٹی کی کامیابیوں پر فخر کرتا تھا، مگر وہ ان الزامات کا بوجھ برداشت نہ کر سکا۔
رادھیکا یادو ایک ابھرتی ہوئی ٹینس کھلاڑی تھیں۔ انہوں نے آل انڈیا ٹینس ایسوسی ایشن کے تحت انڈر 18 کیٹیگری میں 75ویں، اور خواتین سنگلز میں 35ویں پوزیشن حاصل کر رکھی تھی۔ ان کی عالمی درجہ بندی بین الاقوامی ٹینس فیڈریشن میں 1999 تھی، جب کہ وہ رواں برس اندور اور کوالا لمپور میں کوالیفائنگ راؤنڈز میں بھی حصہ لے چکی تھیں۔
رادھیکا کے چچا نے بھی بیٹی کی کھیلوں میں قابلیت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ وہ کئی ٹورنامنٹس میں جیت چکی تھی، اور گھر پر دیپک کے پاس لائسنس یافتہ 32 بور کا ریوالور موجود تھا، جسے استعمال کرتے ہوئے اس نے یہ جرم کیا۔
ادھر بھارتی میڈیا کے مطابق دیپک یادو نے اپنے قریبی دوست کو بتایا کہ "میں نے گناہ کیا ہے، مجھے پھانسی دے دی جائے، مجھے اپنی بیٹی پر فخر تھا مگر طعنے نہیں سہہ سکا۔”
