تہران: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اور عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے درمیان تعاون بند نہیں ہوا بلکہ اس کی نوعیت تبدیل ہوئی ہے۔ تہران میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عراقچی نے اس بات کی وضاحت کی کہ حالیہ حملے میں ایرانی ایٹمی تنصیبات کو نقصان پہنچا، اور ان کے آس پاس تابکاری کے پھیلاؤ اور بارودی مواد پھٹنے کا بھی خطرہ موجود ہے۔
بھارت: سابق ٹینس اسٹار رادھیکا یادو کو والد نے گولیاں مار کر قتل کردیا، وجہ طعن و تشنیع بنی
وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ نہ صرف ایران بلکہ بین الاقوامی قوانین، عالمی نظام اور ایٹمی تحفظ کے اصولوں پر حملہ ہے۔ انہوں نے امریکا اور اسرائیل پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں ممالک بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزیاں کرتے آئے ہیں، جبکہ عالمی برادری اس مجرمانہ طرزعمل پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
عراقچی نے اس بات پر زور دیا کہ ایران اور آئی اے ای اے کے درمیان تعاون مکمل طور پر ختم نہیں ہوا بلکہ آئندہ یہ تعاون ایک نئی اور محتاط شکل میں جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنی سلامتی، خودمختاری اور سائنسی ترقی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ ایران یورینیم افزودگی کے حق کے بغیر کوئی معاہدہ قبول نہیں کرے گا، کیونکہ یہ حق پُرامن جوہری ٹیکنالوجی کے استعمال، خودمختاری اور قومی ترقی سے وابستہ ہے۔
