سندھ میں نئی اجرک ڈیزائن نمبر پلیٹ کے اجرا پر شہریوں میں بڑھتی بے چینی کے درمیان صوبائی وزیر برائے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن مکیش کمار چاؤلہ نے واضح کر دیا ہے کہ نئی نمبر پلیٹس عوام کی حفاظت اور سیکیورٹی کے لیے نہایت ضروری ہیں۔
قومی اسمبلی کمیٹی برائے ریلویز مظفرگڑھ کی اراضی ریلوے کو واپس دینے کا حکم حیدرآباد اسٹیشن پر کام شروع کرنے کی ہدایت
بول نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے مکیش چاؤلہ نے کہا کہ اگر عوام کی طرف سے مطالبہ آیا کہ نئی نمبر پلیٹ فری میں فراہم کی جائے، تو وہ تجویز حکومت کے متعلقہ حکام کے سامنے رکھی جائے گی۔ انہوں نے کہا:
"حکومت جو بھی فیصلہ کرے گی، عوام کی بہتری اور سیکیورٹی کے لیے کرے گی۔”
اجرک نمبر پلیٹ کی تاریخ اور جاری کردہ پلیٹس کی تفصیل:
صوبائی وزیر کے مطابق، اجرک ڈیزائن کی حامل نمبر پلیٹ 2021 میں متعارف کروائی گئی اور 2022 سے عوام کے لیے باقاعدہ دستیاب ہے۔
2022 سے 2025 تک تقریباً 20 لاکھ نمبر پلیٹس جاری کی جا چکی ہیں، جن میں:
10 سے 12 لاکھ موٹر سائیکلوں کے لیے
8 لاکھ پرائیویٹ اور کمرشل گاڑیوں کے لیے
سیف سٹی منصوبے سے براہ راست ربط:
مکیش چاؤلہ نے کہا کہ نئی نمبر پلیٹس کا سیف سٹی کیمروں سے براہ راست تعلق ہے، جو نمبر پلیٹ اسکین کرتے ہی گاڑی یا موٹر سائیکل کا مکمل ڈیٹا اسکرین پر لے آئیں گے۔ اس سے نہ صرف گاڑی چوری کی وارداتوں میں کمی آئے گی بلکہ دہشت گردی میں گاڑیوں کے استعمال کو بھی روکا جا سکے گا۔
اجرک کیوں؟ سندھ کی ثقافت کی پہچان:
انہوں نے مزید کہا کہ:
"سندھ کی اجرک پانچ سو سال پرانی ثقافتی پہچان ہے، اور اسی روایت کو اجاگر کرنے کے لیے اجرک کو نمبر پلیٹ کا حصہ بنایا گیا۔”
جعلی نمبر پلیٹس کے خلاف وارننگ:
صوبائی وزیر نے خبردار کیا کہ جعلی نمبر پلیٹ بنوانا غیر قانونی ہے، اور کوئی بھی شخص سڑک پر یا دکان میں بیٹھ کر نمبر پلیٹ فروخت نہیں کر سکتا۔
"یہ اختیار صرف حکومت کو حاصل ہے، کیونکہ وہی اصل ڈیٹا رکھتی ہے۔ عوام صرف حکومتی ادارے سے نمبر پلیٹ حاصل کریں۔”
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ نمبر پلیٹ نادرا (NIC) جیسے فیڈرل ادارے کے ذریعے تیار کی جا رہی ہے، جو باقی تمام صوبوں کے لیے بھی نمبر پلیٹس تیار کرتا ہے۔
