بلوچستان کے علاقے لورالائی اور موسیٰ خیل کے درمیان پیش آنے والے دہشتگرد حملے میں بسوں سے مسافروں کو اتار کر فائرنگ کرکے شہید کرنے کے واقعے کی بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند نے تصدیق کر دی ہے۔ انہوں نے اس بہیمانہ واقعے کو پاکستان کے امن و استحکام پر حملہ قرار دیا۔
نئی نمبر پلیٹ کے بغیر گاڑی غیر محفوظ سیف سٹی منصوبے سے براہ راست تعلق مکیش چاؤلہ
شناختی کارڈ چیک کر کے مخصوص افراد کو نشانہ بنایا گیا
ترجمان کے مطابق دہشتگردوں نے بسوں کو روک کر مسافروں کے شناختی کارڈ چیک کیے اور مخصوص افراد کو اتار کر اندھا دھند فائرنگ کا نشانہ بنایا۔
شہداء میں دو سگے بھائی عثمان اور جابر بھی شامل ہیں، جو اپنے والد کی نماز جنازہ کے لیے پنجاب جا رہے تھے۔ ان کے بھائی صابر نے سوشل میڈیا پر کہا کہ یہ سفر ایک عظیم صدمے میں تبدیل ہو گیا۔
"دشمن پاکستان کو فرقہ واریت کی آگ میں جھونکنا چاہتا ہے” – ترجمان بلوچستان حکومت
شاہد رند نے کہا کہ یہ حملہ ملک میں فرقہ واریت اور بدامنی پھیلانے کی کوشش ہے، جسے ریاستی ادارے ہر صورت ناکام بنائیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے فوری طور پر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے اور دہشتگردوں کا پیچھا جاری ہے۔
اسی دوران قلات، مستونگ اور سرہ ڈاکئی میں بھی دہشتگردی کی کوششیں کی گئیں، جنہیں سیکیورٹی فورسز نے بروقت ردعمل سے ناکام بنایا۔
وفاقی و صوبائی قیادت کی مذمت
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ:
"معصوم شہریوں کا قتل انسانیت کے خلاف جرم ہے، ان دہشتگردوں کو زمین کے اندر بھی چھپنے نہیں دیں گے۔”
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا:
"ہم ان دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کو ہرگز معاف نہیں کریں گے۔ پاکستان کی ریاست دہشتگردی کے خلاف جنگ آخری مجرم کے خاتمے تک جاری رکھے گی۔”
میتوں کی پنجاب منتقلی اور طبی اقدامات
اسسٹنٹ کمشنر ژوب نوید عالم نے بتایا کہ شہداء کی لاشیں ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کر دی گئی ہیں۔
کمشنر ڈی جی خان اشفاق احمد چوہدری نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر پانچ ایمبولینسز بلوچستان روانہ کی گئی ہیں تاکہ لاشوں کی باحفاظت منتقلی ممکن بنائی جا سکے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان اور وفاقی وزیر داخلہ نے شہداء کے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے یقین دلایا کہ قاتلوں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
