اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر (او ایچ سی ایچ آر) نے انکشاف کیا ہے کہ مئی کے آخر سے 7 جولائی 2025 تک کم از کم 798 فلسطینی شہری خوراک حاصل کرنے کی کوشش کے دوران شہید ہو چکے ہیں۔
اسلام آباد عدالت کا مطیع اللہ جان اور اسد طور کے یوٹیوب چینلز کی بندش کا حکم معطل نیشنل کرائم ایجنسی سے جواب طلب
اقوام متحدہ کی ترجمان روینا شمدا سانی نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ
"615 افراد غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن کے مراکز کے قریب جبکہ 183 افراد امدادی قافلوں کے راستوں میں نشانہ بنے۔”
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، یہ شہادتیں اسرائیلی افواج کی جانب سے ان افراد کو نشانہ بنانے کے نتیجے میں ہوئیں جو کھانے اور دیگر بنیادی ضروریات کے لیے قطاروں میں کھڑے تھے۔
ادھر رفح شہر کے شمال مغرب میں ایک امدادی مرکز کے قریب اسرائیلی گولیاں لگنے سے کم از کم 10 فلسطینی شہید اور 60 سے زائد زخمی ہو گئے۔
ناصر اسپتال کے ذرائع کے مطابق، خان یونس کے علاقے السطر میں گولہ باری کے نتیجے میں مزید 2 افراد شہید ہوئے۔
آسیان ممالک کا شدید ردعمل
دوسری جانب، جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان نے ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں ہونے والی 15ویں وزرائے خارجہ کانفرنس میں فلسطینیوں کے خلاف جاری نسل کشی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ملائیشین وزیر خارجہ محمد حسن نے کہا:
"اسرائیل کو گزشتہ 80 برسوں سے حاصل بین الاقوامی استثنیٰ نے اسے اتنا بے خوف بنا دیا ہے کہ وہ کھلے عام نسل کشی جیسے جرائم کر رہا ہے، جس میں بھوکا مارنے جیسے ہتھکنڈے بھی شامل ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ اب وقت آ چکا ہے کہ فلسطینی علاقوں پر غیرمنصفانہ اور غیرقانونی قبضے کا خاتمہ کیا جائے تاکہ امن کی راہیں ہموار ہوں۔
اقوام متحدہ کی اس رپورٹ اور آسیان وزرائے خارجہ کے مطالبے نے عالمی برادری پر دباؤ بڑھا دیا ہے کہ وہ غزہ میں انسانی المیے کو روکنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔
