ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکہ نے معروف صحافیوں مطیع اللہ جان اور اسد طور کی جانب سے یوٹیوب چینلز کی بندش کے خلاف دائر اپیل پر بڑا فیصلہ سنا دیا۔ عدالت نے دونوں صحافیوں کے یوٹیوب چینلز بلاک کرنے کا مجسٹریٹ کا حکم معطل کر دیا ہے اور نیشنل کرائم ایجنسی کو 21 جولائی کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے۔
اے این پی رہنما مولانا خان زیب کی نماز جنازہ ادا ہزاروں افراد کی شرکت وزیراعظم شہباز شریف کا اظہار افسوس
یاد رہے کہ اس سے قبل اسلام آباد کے جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ نے ایف آئی اے کی درخواست پر 27 یوٹیوب چینلز کو ریاست مخالف مواد نشر کرنے کے الزام میں بند کرنے کا حکم دیا تھا، جن میں مطیع اللہ جان اور اسد طور کے چینلز بھی شامل تھے۔ یوٹیوب کے متعلقہ آفیسر کو ان چینلز کو فوری بلاک کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
تاہم ایڈیشنل سیشن جج نے تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ درخواست گزاران کو نہ تو کوئی نوٹس دیا گیا اور نہ ہی سنا گیا، جس سے آئین کے آرٹیکل 10-A کے تحت شفاف ٹرائل کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہوئی۔
فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ بادی النظر میں مجسٹریٹ نے درخواست گزاران کا مؤقف سنے بغیر ہی ان کے یوٹیوب چینلز بند کرنے کا حکم جاری کیا، جو کہ انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ مطیع اللہ جان اور اسد طور کی حد تک مجسٹریٹ کا حکم عارضی طور پر معطل کیا جاتا ہے۔
یہ کیس اظہارِ رائے کی آزادی اور ڈیجیٹل حقوق سے جڑا ایک اہم موڑ تصور کیا جا رہا ہے، اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ سماعت میں اس کیس کا فیصلہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر صحافتی آزادی کے لیے ایک نظیر قائم کر سکتا ہے۔
