معروف اداکار احسن خان نے حالیہ انٹرویو میں بچوں کی تربیت، ڈیجیٹل دنیا کے خطرات اور والدین کی ذمہ داریوں پر کھل کر اظہارِ خیال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں کو مہنگی چیزیں دلوا کر ان کے چہروں پر وقتی خوشی لانا اصل کامیابی نہیں بلکہ ان کی سوچ، مزاج اور طرزِ زندگی کی مثبت تربیت ہی والدین کا اصل امتحان ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کی سیاسی انتقامی کارروائی کا مقدمہ محمود خلیل کی قانونی جنگ میرے 104 دن کبھی واپس نہیں آئیں گے
احسن خان نے کہا کہ صرف بچوں کے لیے اچھے بیڈ رومز بنانا یا مادی سہولیات فراہم کرنا کافی نہیں، اصل ذمہ داری یہ ہے کہ والدین بچوں کے ساتھ وقت گزاریں، ان کے معمولات کو مانیٹر کریں اور انہیں زندگی کے معاملات سے باخبر رکھیں۔
اداکار نے ڈیجیٹل سرگرمیوں کو "انتہائی خطرناک” قرار دیتے ہوئے کہا کہ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کی آن لائن حرکات پر گہری نظر رکھیں اور انہیں محدود استعمال کے قابل ڈیوائسز مہیا کریں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے اپنے دونوں بیٹے، جن کی عمریں 15 اور 11 سال ہیں، کے پاس ذاتی موبائل فون نہیں ہیں بلکہ انہیں دوسرے کنٹرولڈ ڈیوائسز دیے گئے ہیں تاکہ وہ صرف ضرورت کی حد تک آن لائن مواد تک رسائی حاصل کر سکیں۔
احسن خان نے والدین کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ آن لائن سرگرمیوں کے باعث بچے غیر محفوظ بھی ہو سکتے ہیں، جیسا کہ اسلام آباد میں قتل کی جانے والی بچی ثنا یوسف کا واقعہ ہے، جسے مبینہ طور پر انکار پر جان سے مار دیا گیا۔ "میں کسی پر الزام نہیں لگا رہا، لیکن اگر والدین تھوڑی سی توجہ دیں تو شاید ایسے سانحات روکے جا سکتے ہیں،” انہوں نے کہا۔
اداکار نے والدین سے اپیل کی کہ وہ ڈیجیٹل آزادی دینے سے پہلے بچوں کی ذہنی بلوغت، اخلاقی تربیت اور سوشل شعور پر توجہ دیں تاکہ وہ محفوظ اور متوازن زندگی گزار سکیں۔
