ٹرمپ انتظامیہ کی سیاسی انتقامی کارروائی کا مقدمہ محمود خلیل کی قانونی جنگ میرے 104 دن کبھی واپس نہیں آئیں گے

معروف انسانی حقوق تنظیم "سینٹر فار کانسٹیٹیوشنل رائٹس” نے محمود خلیل کی قانونی معاونت کرتے ہوئے امریکا میں سابق ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ خلیل کو سیاسی انتقام اور غیر قانونی منصوبے کے تحت گرفتار، حراست میں رکھا گیا اور ملک بدر کرنے کی کوشش کی گئی۔
پاکستان جی 20 کا حصہ بنے گا بھارت کو پے لوڈ حملوں کا جواب دیا 6 طیارے مار گرائے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کوالالمپور میں خطاب

مقدمے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ محمود خلیل کو دانستہ طور پر خوفزدہ کرنے، ان کی زندگی میں مداخلت اور انہیں ذہنی، مالی اور سماجی طور پر نقصان پہنچانے کے لیے سرکاری اختیارات کا ناجائز استعمال کیا گیا۔

محمود خلیل نے اس قانونی کارروائی کو "احتساب کی جانب پہلا قدم” قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا،

"میرے زندگی کے وہ 104 دن کبھی واپس نہیں آ سکتے۔ جو صدمہ سہنا پڑا، بیوی سے جدائی، اور اپنے پہلے بچے کی پیدائش کے لمحات میں شامل نہ ہونا — یہ سب ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔”

خلیل کا کہنا ہے کہ سیاسی بنیادوں پر سرکاری مشینری کا استعمال ناقابل قبول ہے، اور ایسے اقدامات پر جوابدہی لازمی ہونی چاہیے۔

انہوں نے اپنی حراست کے اذیت ناک تجربے کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ 70 سے زائد افراد کے ساتھ ایک تنگ جگہ میں رہنے پر مجبور تھے، جہاں نہ روشنی بند ہوتی تھی، نہ کوئی پرائیویسی میسر تھی۔

قانونی ماہرین کے مطابق یہ مقدمہ صرف ایک انفرادی جدوجہد نہیں بلکہ ریاستی اختیارات کے غلط استعمال پر ایک بڑا سوالیہ نشان بھی ہے، جس کے ممکنہ نتائج امریکی عدالتی نظام اور انسانی حقوق کی بالادستی کے لیے اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔

61 / 100 SEO Score

One thought on “ٹرمپ انتظامیہ کی سیاسی انتقامی کارروائی کا مقدمہ محمود خلیل کی قانونی جنگ میرے 104 دن کبھی واپس نہیں آئیں گے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!