غزہ میں کیش کا بحران شدت اختیار کر گیا نقدی کے بدلے 40 فیصد تک کمیشن لوگ روزمرہ ضروریات کے لیے خون کے آنسو رونے لگے

اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ نے جہاں غزہ کی پٹی کو انسانی بحران میں مبتلا کر رکھا ہے، وہیں نقدی کی شدید قلت نے مقامی آبادی کی مشکلات میں خطرناک حد تک اضافہ کر دیا ہے۔ غذائی اجناس، ایندھن اور ادویات کی طرح، نقد رقم بھی ایک نایاب اور قیمتی شے بن چکی ہے۔
بچوں کو ذاتی فون نہ دینا میری سوچا سمجھا فیصلہ ہے والدین کو ڈیجیٹل سرگرمیوں پر نظر رکھنی چاہیے احسن خان

غزہ میں تقریباً تمام بینک برانچیں اور اے ٹی ایمز ناکارہ ہو چکی ہیں، جس کے بعد شہریوں نے مجبوری کے تحت "کیش بروکرز” پر انحصار شروع کر دیا ہے۔ یہ بروکرز الیکٹرانک رقم کے بدلے نقد رقم فراہم کرتے ہیں — لیکن 30 سے 40 فیصد تک بھاری کمیشن لے کر۔

غزہ شہر کے ایک اسکول ڈائریکٹر ایمن الدہدوح نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا،

"لوگ اس نظام کی وجہ سے خون کے آنسو رو رہے ہیں۔ یہ ہماری سانس روک رہا ہے، ہمیں بھوکا مار رہا ہے۔”

اس وقت غزہ میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور بچتوں کی کمی نے لوگوں کو اس حد تک مجبور کر دیا ہے کہ وہ ضروری اشیاء خریدنے کے لیے اپنی قیمتی چیزیں فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔ نقدی کی کمی نے زندگی کو مزید کٹھن بنا دیا ہے۔

فلسطینی کرنسی کے بجائے یہاں اسرائیلی شیکل استعمال ہوتی ہے، لیکن اسرائیل کی جانب سے نئے نوٹوں کی فراہمی بند کیے جانے کے بعد اب بازار میں موجود کرنسی بھی خستہ حال ہو چکی ہے۔ تاجر پرانے اور پھٹے ہوئے نوٹ لینے سے انکاری ہیں۔

ورلڈ بینک کے مطابق، صرف 2024 میں غزہ میں افراطِ زر میں 230 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ جنوری میں عارضی جنگ بندی کے دوران معمولات کچھ بہتر ہوئے، لیکن مارچ میں اسرائیل کے جنگ بندی سے پیچھے ہٹنے کے بعد دوبارہ گولی باری شروع ہو گئی۔

اسرائیل نے حماس کی مالی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لیے جنگ کے آغاز پر ہی نقدی کی ترسیل بند کر دی تھی۔ ادھر کئی امیر خاندان جنگ کے آغاز پر اپنی رقوم نکال کر غزہ چھوڑ چکے ہیں، جبکہ بیرونی کاروبار اب صرف نقد ادائیگی پر ہی مال فروخت کر رہے ہیں۔

کیش بروکرز اب غزہ کی معیشت کے غیر رسمی، مگر طاقتور ستون بن چکے ہیں۔ محمد بشیر الفارہ، جو خان یونس سے بے گھر ہونے کے بعد جنوبی غزہ میں مقیم ہیں، بتاتے ہیں:

"اگر مجھے 60 ڈالر چاہییں تو 100 ڈالر ٹرانسفر کرنا پڑتے ہیں۔ ہم اپنی آدھی رقم صرف اس لیے کھو دیتے ہیں کہ روٹی، آٹا اور چینی خرید سکیں۔”

ماہرین اور انسانی حقوق کے ادارے خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اگر یہ کیش بحران مزید طول پکڑتا ہے تو غزہ میں غربت، بھوک اور بدامنی میں بے پناہ اضافہ ہو سکتا ہے۔

67 / 100 SEO Score

One thought on “غزہ میں کیش کا بحران شدت اختیار کر گیا نقدی کے بدلے 40 فیصد تک کمیشن لوگ روزمرہ ضروریات کے لیے خون کے آنسو رونے لگے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!