کراچی: وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار کی زیر صدارت صوبائی اسٹیئرنگ کمیٹیوں کے اراکین پر مشتمل اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں دہشت گردی، منظم جرائم، اسمگلنگ، منشیات اور دیگر سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی طے کی گئی۔
نئے قلندرز کی تلاش، سندھ میں کرکٹ ٹرائلز کا آغاز — نوجوانوں کے لیے قومی سطح پر نیا موقع
اجلاس میں سیکریٹری خزانہ، آئی جی سندھ، ڈی جی رینجرز، ایڈیشنل آئی جیز، سی ٹی ڈی، اسپیشل برانچ، آئی ایس آئی، ایم آئی، ایف آئی اے، ایس ایس یو/سی پیک، کسٹم، اور فائیو کور کے نمائندوں سمیت تمام متعلقہ اداروں کے افسران شریک ہوئے۔
اجلاس میں طے پایا کہ:
-
دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وفاقی سطح پر ایک انسداد دہشت گردی فورس قائم کی جائے گی، جو ملک بھر کے سی ٹی ڈی یونٹس کے ساتھ مربوط ہو گی۔
-
قومی و صوبائی سطح پر فیوژن سینٹرز کے قیام، اور ہائی ویز و موٹرویز کو محفوظ بنانے کے لیے مربوط اقدامات کیے جائیں گے۔
-
چینی باشندوں کا تحفظ، سیف سٹی پروجیکٹ کی دیگر شہروں تک توسیع، انسداد تجاوزات، منشیات مافیاز اور غیر قانونی پیٹرول پمپس کے خلاف بھی فیصلہ کن کارروائی کی جائے گی۔
-
صوبے کے بارڈر ایریاز پر مشترکہ چیک پوسٹس کے قیام کے لیے پولیس، رینجرز، اے این ایف، اور کسٹم سمیت دیگر اداروں کی شمولیت سے قابلِ عمل میکنزم تیار کیا جائے گا۔
وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ:
-
فیوژن سینٹرز سرکاری ملکیت میں ہوں اور کرایے پر نہ لیے جائیں۔
-
ہائی ویز پر پیٹرولنگ مزید مؤثر بنانے کے لیے افرادی قوت بڑھائی جائے گی۔
-
تمام نجی سیکیورٹی کمپنیوں کے لائسنسز کا ازسرنو جائزہ لیا جائے اور غیرقانونی کمپنیوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کیا جائے۔
-
کمشنرز کو انسداد تجاوزات کے لیے تحریری ہدایات جاری کی جائیں اور ہر پندرہ دن بعد کارکردگی رپورٹ پیش کی جائے۔
-
پولیس، ایکسائز، اے این ایف اور کسٹم کو منشیات کے خلاف کارروائیوں پر مشتمل رپورٹ فوری پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔
آئی جی سندھ نے اجلاس کو بتایا کہ ہائی ویز اور موٹرویز سے منسلک 23 اضلاع حساس نوعیت کے ہیں جہاں سیکیورٹی بڑھانے کے لیے افرادی قوت درکار ہے اور نئی بھرتیاں ناگزیر ہیں۔ سی ٹی ڈی کی مؤثر کارکردگی کے لیے افسران اور جوانوں کو اضافی مراعات کی بھی ضرورت ہے۔
اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ تمام اقدامات میں بین الادارہ جاتی ہم آہنگی، فوری نفاذ اور شفاف رپورٹنگ کو یقینی بنایا جائے گا۔
