کراچی: نیو کراچی ٹاؤن کے چیئرمین محمد یوسف نے وائس چیئرمین شعیب بن ظہیر کے ہمراہ نارتھ کراچی کے سیکٹر 11-B کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں برسوں پرانے سیوریج مسائل کے حل کے لیے نئی سیوریج لائن کی تنصیب کے کام کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا۔ ٹاؤن فنڈز سے جاری اس منصوبے کا چیئرمین نے خود موقع پر جا کر معائنہ کیا۔
سندھ ہائیکورٹ میں نئی نمبر پلیٹس کے خلاف درخواست شہریوں پر مالی بوجھ کا شکوہ
اس موقع پر بڑی تعداد میں علاقہ مکین بھی موجود تھے، جنہوں نے دیرینہ مسئلے کے حل پر ٹاؤن انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین محمد یوسف کا کہنا تھا کہ مذکورہ علاقہ کئی سالوں سے سیوریج مسائل کا شکار تھا، جس کے حوالے سے واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کو بارہا آگاہ کیا گیا، تاہم بورڈ نے کوئی عملی قدم نہ اٹھایا۔
چیئرمین نے کہا کہ شہریوں کی مشکلات دیکھ کر ہم نے اپنے محدود فنڈز سے اس اہم مسئلے کا حل نکالا اور آج منصوبے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ٹاؤن انتظامیہ اب تک واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے ذمہ کے کاموں پر 9 کروڑ روپے سے زائد خرچ کر چکی ہے، حالانکہ یہ رقم دیگر ترقیاتی منصوبوں پر بھی خرچ کی جا سکتی تھی۔
محمد یوسف نے واٹر اینڈ سیوریج بورڈ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جولائی 2024 سے اب تک بورڈ اس منصوبے کا ٹینڈر بھی جاری نہیں کر سکا، جو اس کی نااہلی اور کرپشن کی واضح مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی بھر میں بورڈ کی کارکردگی نہایت مایوس کن ہے، اسی وجہ سے ہم اپنے اختیارات سے بڑھ کر شہریوں کو ریلیف فراہم کر رہے ہیں۔
علاقہ مکینوں نے بھی ٹاؤن چیئرمین اور وائس چیئرمین کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ جس مسئلے پر واٹر بورڈ نے آنکھیں بند کر رکھی تھیں، اسے ٹاؤن انتظامیہ نے حل کر دیا ہے۔
