سندھ ہائیکورٹ میں ایک شہری کی جانب سے نئی ڈیزائن کی نمبر پلیٹس کے خلاف آئینی درخواست دائر کی گئی ہے، جس میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ اس اقدام سے غریب اور متوسط طبقے کے شہری شدید مالی مشکلات کا شکار ہو رہے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر وسطی کی ہدایت پر شہری دفاع کا نظام ری ویمپ کرنے کا فیصلہ مون سون سے قبل تیاریوں پر زور
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ سندھ حکومت پہلے ہی پرانی نمبر پلیٹس کے عوض شہریوں سے رقم وصول کر چکی ہے، لہٰذا نئی پلیٹس کے لیے دوبارہ ادائیگی غیر منصفانہ ہے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ حکومت کو نئی نمبر پلیٹس بلا معاوضہ جاری کرنے کا حکم دیا جائے۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ سندھ حکومت کے حالیہ نوٹیفکیشن کے مطابق جو شہری نئی نمبر پلیٹس نہیں لگوائیں گے، ان کی گاڑیاں ضبط کی جا سکتی ہیں، جس سے عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
درخواست گزار کا یہ بھی کہنا ہے کہ موٹر وہیکل ڈیپارٹمنٹ اور ٹریفک پولیس نے نمبر پلیٹس کے معاملے کو کاروبار بنا لیا ہے، اور شہریوں سے زبردستی چالان اور فیس وصول کی جا رہی ہے۔
درخواست میں عدالت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ شہریوں پر جرمانے اور گاڑیوں کی ضبطگی کا عمل فوری طور پر روکا جائے، کیونکہ اس سے نہ صرف عوامی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ جعلی نمبر پلیٹس بنانے والے عناصر بھی سرگرم ہو گئے ہیں۔
درخواست میں سیکرٹری ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن، ڈی آئی جی ٹریفک اور موٹر وہیکل رجسٹریشن ونگ کو فریق بنایا گیا ہے۔ عدالت کی جانب سے آئندہ چند روز میں اس مقدمے کی ابتدائی سماعت متوقع ہے۔
