شہرِ قائد میں بلدیاتی بدانتظامی اور اندرونی تضادات ایک بار پھر سامنے آ گئے، جہاں مئیر کراچی مرتضیٰ وہاب کی جانب سے 8 جنوری 2025 کو کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر کی گئی ناظم آباد حکیم ابن سینا روڈ کو صرف 6 ماہ بعد خود بلدیہ عظمیٰ کراچی نے کھودنے کی اجازت دے دی۔
وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت پولیس افسران کی رینکنگ تقریب بی پی ایس 20 اور 21 میں ترقی پانے والوں کو رینک پہنائے گئے
دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ اجازت صرف 11 لاکھ روپے کے چالان پر دی گئی — یعنی عوامی ٹیکس سے کروڑوں روپے سے تعمیر کی گئی سڑک کو محض چند لاکھ کے معاوضے پر برباد کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق بلدیہ عظمیٰ کراچی کے انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ نے 8 جولائی 2025 کو روڈ کٹنگ کی باقاعدہ اجازت نامہ جاری کیا، جس کے چالان کے پوائنٹ نمبر 7 میں نئی تعمیر شدہ سڑک کو "کچے پورشن” کے طور پر ظاہر کر کے کاٹنے کی منظوری دی گئی۔
مزید انکشاف ہوا ہے کہ یہ اجازت میونسپل کمشنر کی منظوری سے جاری ہوئی — سوال یہ ہے کہ کیا مئیر کراچی مرتضیٰ وہاب کو انہی کے ماتحت اداروں سے ناکام کرنے کی سازش ہو رہی ہے؟
ناقدین کا کہنا ہے کہ آدھا پاؤ بارش کے بعد بھی سڑک کو کاٹنے کی فوری اجازت دینا یہ ظاہر کرتا ہے کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی خود اپنی ترقیاتی اسکیمز کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
علاقے میں وجاہت عابدی کی کوششوں کے نتیجے میں ناظم آباد تھانے میں غیر قانونی روڈ کٹنگ کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے، جو اس معاملے کی سنگینی کو واضح کرتی ہے۔
شہریوں اور ٹیکس دہندگان کی جانب سے سخت سوالات اٹھائے جا رہے ہیں:
اگر نئی سڑک چند ماہ میں کاٹنی ہی تھی تو اسے بنایا کیوں گیا؟
کیا یہ روڈ کٹنگ منصوبہ پہلے سے طے شدہ تھا؟
کیا عوام کے پیسے کے ساتھ جان بوجھ کر کھیل کھیلا جا رہا ہے؟
کراچی کے عوام اب اس بات کے منتظر ہیں کہ مئیر کراچی مرتضیٰ وہاب خود اس معاملے پر کیا مؤقف اختیار کرتے ہیں اور کیا ذمہ داروں کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے یا نہیں۔



