پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے الجزیرہ ٹی وی کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی کو پاکستان کے خلاف ایک باقاعدہ پالیسی کے طور پر استعمال کر رہا ہے، جس کا مقصد خصوصاً بلوچستان کو غیر مستحکم کرنا ہے۔
کروڑوں کی لاگت سے بنی نئی سڑک 11 لاکھ کے چالان پر کاٹ دی گئی کیا مرتضیٰ وہاب کو اندر سے ناکام بنایا جا رہا ہے
ان کا یہ ردعمل گزشتہ ماہ وزیرستان بم دھماکے کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جس میں 16 فوجی جوان شہید اور 20 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ حملے کی ذمہ داری فتنہ الخوارج (تحریک طالبان پاکستان) نے قبول کی تھی۔
الجزیرہ کے مطابق پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ بھارت ان حملوں میں براہ راست ملوث ہے، نہ صرف مالی معاونت فراہم کرتا ہے بلکہ تربیت اور منصوبہ بندی میں بھی شامل ہوتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے انٹرویو میں "خوارج” کی اصطلاح پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ:
"یہ گمراہ گروہ اسلام کے نام پر فساد پھیلا رہے ہیں۔ اسلام میں جہاد یا قتال کا اختیار صرف ریاست کو حاصل ہے، کسی فرد یا تنظیم کو نہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ:
"فتنہ الخوارج اسلام، پاکستان یا انسانیت سے کوئی تعلق نہیں رکھتے، اور فتنہ الہندوستان کی اصطلاح ان دہشتگردوں کے لیے استعمال ہوتی ہے جو بھارت کی پشت پناہی سے ملک میں دہشتگردی کرتے ہیں، خاص طور پر بلوچستان میں۔”
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے الزام عائد کیا کہ بھارتی ریاستی دہشتگردی کا ماسٹر مائنڈ اجیت دوول ہے، اور امریکہ، کینیڈا سمیت متعدد ممالک بھارت کی دہشتگردانہ کارروائیوں کا اعتراف کر چکے ہیں۔
انٹرویو کے دوران انہوں نے ایران پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے پاکستان کی طرف سے سیاسی و سفارتی حمایت کا اعادہ کیا۔
ایٹمی پروگرام پر گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ:
"پاکستان کا ایٹمی پروگرام مکمل طور پر محفوظ اور ناقابل تسخیر ہے، ہم ایک ذمہ دار ایٹمی طاقت ہیں، اور کوئی بھی ہمارا ایٹمی پروگرام نشانہ بنانے کی جرات نہیں کر سکتا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ یہ جوہری صلاحیت نہ صرف پاکستان کی دفاعی طاقت بلکہ علاقائی توازن کو بھی یقینی بناتی ہے۔
یہ انٹرویو ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سلامتی، سفارتی کشیدگی، اور عسکری چیلنجز شدت اختیار کر چکے ہیں، اور پاکستان ایک مرتبہ پھر بھارت کی خفیہ کارروائیوں کو عالمی سطح پر بے نقاب کرنے کے لیے سرگرم ہے۔
