سعودی ولی عہد سے ایرانی وزیر خارجہ کی ملاقات ایران اسرائیل جنگ بندی کے بعد خطے میں سفارتی رابطے تیز

سعودی وزارتِ خارجہ کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے حال ہی میں سعودی عرب کے ولی عہد اور de facto حکمران محمد بن سلمان سے ملاقات کی ہے۔ یہ اعلیٰ سطحی رابطہ ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگ بندی کے دو ہفتے بعد سامنے آیا ہے، جسے خطے میں سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
عمران اشرف کا شادی سے متعلق سوال پر دلچسپ ردعمل وہی ڈھونڈنا شروع کردیں

سعودی وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق ولی عہد محمد بن سلمان نے اس ملاقات میں اس امید کا اظہار کیا کہ جنگ بندی خطے میں استحکام اور امن کا باعث بنے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ ریاض ہمیشہ سے سفارتی ذرائع سے تنازعات کے حل کا حامی رہا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے اس موقع پر سعودی عرب کی جانب سے اسرائیلی حملوں کی مذمت پر شکریہ ادا کیا۔ گزشتہ ماہ 13 جون کو اسرائیل نے ایران پر اپنی تاریخ کا سب سے بڑا فضائی حملہ کیا تھا، جس میں ایرانی دعووں کے مطابق 1000 سے زائد افراد شہید ہوئے تھے، جن میں جوہری سائنس دان اور فوجی کمانڈر بھی شامل تھے۔

ایران نے اس حملے کے جواب میں اسرائیل پر درجنوں میزائل اور ڈرون حملے کیے، جن میں کم از کم 28 افراد ہلاک ہوئے۔

بعد ازاں امریکا نے بھی جنگ میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے 22 جون کو ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کیے، جس کے باعث تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے۔ تاہم، 24 جون سے ایران اور اسرائیل کے درمیان غیر رسمی جنگ بندی نافذ ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سعودی ولی عہد کے علاوہ وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان سے بھی اہم اور مثبت مذاکرات کیے، جن میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی استحکام اور باہمی تعاون پر گفتگو ہوئی۔

ایران اور سعودی عرب کے تعلقات ماضی میں شام، لبنان اور یمن جیسے تنازعات کے باعث کشیدہ رہے ہیں، یہاں تک کہ 2016 میں سفارتی تعلقات منقطع کر لیے گئے تھے۔ تاہم 2023 میں چین کی ثالثی سے دونوں ممالک نے تعلقات بحال کیے، جسے ولی عہد محمد بن سلمان کی اہم سفارتی کامیابی قرار دیا گیا تھا۔

سعودی عرب نے گزشتہ ماہ ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملوں کی سخت مذمت کی تھی اور انہیں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے خطے میں کشیدگی میں اضافے کا سبب بتایا تھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ اعلیٰ سطحی ملاقاتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دونوں ممالک خطے میں توازن اور استحکام کے لیے سفارتی راہیں ہموار کرنا چاہتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ ایک نئی جنگی صورتِ حال سے گزر چکا ہے۔

66 / 100 SEO Score

One thought on “سعودی ولی عہد سے ایرانی وزیر خارجہ کی ملاقات ایران اسرائیل جنگ بندی کے بعد خطے میں سفارتی رابطے تیز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!