نئی دہلی/اسلام آباد: آپریشن سندور کے دوران بھارت کو بھاری جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا، تاہم بھارتی حکومت اور افواج اس ہزیمت کو چھپانے کے لیے شدید اندرونی دباؤ کا شکار ہیں۔ ذرائع کے مطابق لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر پاکستانی جوابی کارروائیوں میں 250 سے زائد بھارتی فوجی ہلاک ہوئے، لیکن ان نقصانات کو تسلیم کرنے سے انکار کیا جا رہا ہے۔
یوم عاشور: کراچی، لاہور، اسلام آباد سمیت مختلف شہروں میں سیکیورٹی خدشات کے باعث موبائل سروس معطل
ذرائع کا کہنا ہے کہ ان ہلاکتوں کو بہادری کا لبادہ پہنا کر بھارتی حکومت نے 100 سے زائد فوجیوں کو مختلف فوجی اعزازات دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان میں بھارتی فضائیہ کے 3 رافیل طیاروں کے پائلٹس سمیت 4 پائلٹس شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق انڈین آرمی کی 93 انفینٹری بریگیڈ کے 9 اور ٹین انفینٹری بریگیڈ کے 5 ہلاک فوجیوں کو بھی اعزازات دیے جا رہے ہیں، جب کہ ادھم پور ایئربیس پر مارے گئے جدید S-400 دفاعی نظام کے 5 آپریٹرز کو بھی ایوارڈ ملنے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مودی سرکار نے فوجیوں کے لواحقین پر بھی دباؤ ڈال رکھا ہے کہ وہ اپنے پیاروں کی تصاویر یا ہلاکت کی تفصیلات سوشل میڈیا پر شیئر نہ کریں، تاکہ نقصانات کو عالمی سطح پر تسلیم نہ کیا جا سکے۔
یاد رہے کہ بھارت نے 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب پہلگام میں سیاحوں کے قتل کو جواز بنا کر پاکستان کے خلاف کئی محاذوں پر حملے کیے، جن کا پاکستان نے بھرپور اور فوری جواب دیا۔ پاکستان ایئر فورس نے جوابی کارروائی میں بھارت کے جدید رافیل سمیت 6 جنگی طیارے مار گرائے اور ایل او سی پر کئی بھارتی چوکیاں تباہ کر دیں، جس میں درجنوں بھارتی فوجی مارے گئے۔
پاکستان نے 10 مئی کو ’’آپریشن بنیان مرصوص‘‘ کا آغاز کرتے ہوئے بھارت کی کئی فوجی چھاؤنیوں، ایئربیسز اور دفاعی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ اس کے بعد بھارت نے امریکی حکومت سے رابطہ کر کے جنگ بندی کے لیے مدد مانگی، جس پر پاکستان نے سفارتی رابطے کے بعد عارضی طور پر حملے روکنے کا اعلان کیا۔
