لیاری سانحہ: غیر قانونی تعمیرات کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان، ایس بی سی اے افسران معطل

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ کراچی میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن جاری ہے اور حالیہ لیاری سانحہ کے بعد اس مہم میں مزید تیزی لائی جائے گی۔ لیاری کے علاقے بغدادی میں گرنے والی پانچ منزلہ عمارت کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کے متعلقہ ڈائریکٹر، ڈپٹی ڈائریکٹر اور بلڈنگ انسپکٹرز کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے، جب کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے تین روز میں رپورٹ پیش کرنے والی ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے۔

بلاول بھٹو کے پرسنل سیکریٹری جنید سلیم جیڈی کا لیاری کا دورہ، عمارت گرنے کے واقعے پر امدادی کام تیز کرنے کی ہدایت

سعید غنی نے جمعہ کو جائے وقوعہ پر ریسکیو سرگرمیوں کا جائزہ لیتے ہوئے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ متاثرہ عمارت کے مکینوں کو گزشتہ پانچ چھ سالوں سے متعدد نوٹسز جاری کیے جا چکے تھے، مگر مکینوں نے گھر خالی نہیں کیے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انسانی جان ایک گھر سے زیادہ قیمتی ہے، اور اب ایسے مکانات کو خالی کرانے کے لیے سخت اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔

انہوں نے ڈپٹی کمشنر ساؤتھ اور ریسکیو اداروں کو ہدایت دی کہ ریسکیو کاموں میں مزید تیزی لائی جائے اور ملبے تلے دبے افراد کو فوری نکال کر انہیں طبی امداد فراہم کی جائے۔

صوبائی وزیر نے اعتراف کیا کہ زبردستی گھروں سے نکالنے پر حکومت کو تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن قیمتی جانوں کے تحفظ کے لیے ایسے فیصلے کرنے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں غیر قانونی بلڈرز کا ایک پورا مافیا سرگرم ہے، جس کے خلاف مقدمات درج کیے جا چکے ہیں اور کئی پر کارروائیاں بھی کی گئی ہیں، تاہم جب تک شہری ان غیر قانونی عمارتوں میں گھر لینا بند نہیں کریں گے، مسئلہ حل نہیں ہو گا۔

سعید غنی نے مزید کہا کہ ہائی رائز بلڈنگز مسئلہ نہیں بلکہ غیر قانونی اور ناقص تعمیرات اصل خطرہ ہیں۔ حکومت اب ایک مؤثر لائحہ عمل مرتب کر رہی ہے تاکہ مخدوش عمارتوں کو بروقت خالی کرا کے انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ اس ضمن میں پگڑی سسٹم یا خریداری پر رہنے والے مکینوں کے لیے بھی قابلِ عمل حل نکالا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!