سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے حالیہ دنوں میں سعودی عرب سے بھی معاہدہ ابراہیمی میں توسیع کے حوالے سے بات چیت کی ہے۔ ان کے بقول، متعدد ممالک اس معاہدے میں شامل ہونے جا رہے ہیں، اور ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں سے پیدا ہونے والا دباؤ اس تبدیلی کی اہم وجہ ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف اور صدر الہام علییف کی ملاقات باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق
معاہدہ ابراہیمی وہ تاریخی سفارتی فریم ورک ہے جس کے تحت ٹرمپ کے دورِ صدارت میں متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا آغاز کیا تھا۔
غزہ میں جنگ بندی کی پیش رفت
ٹرمپ نے منگل کو یہ دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیل، حماس کے ساتھ 60 دن کی جنگ بندی کے لیے درکار شرائط تسلیم کر چکا ہے۔ تاہم، جمعہ کو صحافیوں کے سوال پر انہوں نے کہا، "دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے، ہمیں اگلے 24 گھنٹوں میں پتا چل جائے گا۔”
حماس کے قریبی ذرائع کے مطابق، تنظیم نے امریکی تجویز پر رضامندی کے لیے یہ ضمانتیں طلب کی ہیں کہ یہ جنگ بندی غزہ میں اسرائیلی حملوں کے مستقل خاتمے کا باعث بنے گی۔
غزہ میں انسانی بحران شدت اختیار کر گیا
جمعرات کو اسرائیلی فضائی حملوں میں درجنوں فلسطینی شہید ہوئے۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، 7 اکتوبر 2023 سے اب تک 56 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جب کہ پوری آبادی بے گھر اور شدید غذائی بحران کا شکار ہو چکی ہے۔
بین الاقوامی سطح پر اسرائیل پر نسل کشی اور جنگی جرائم کے الزامات عائد کیے جا چکے ہیں، جنہیں اسرائیلی حکومت مسترد کرتی ہے۔
ٹرمپ کی متنازع تجویز اور تنقید
رواں سال کے آغاز میں ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ پر امریکی کنٹرول کی تجویز دی تھی، جسے اقوام متحدہ، انسانی حقوق کے اداروں اور فلسطینی قیادت نے نسلی تطہیر کے مترادف قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
ٹرمپ کی سفارتی سرگرمیاں
جمعرات کی شب سابق صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان سے ملاقات کی، جس میں معاہدہ ابراہیمی کے دائرہ کار کو وسیع کرنے پر بات چیت ہوئی۔ ملاقات کے بعد سعودی وزیر نے ایران کے فوجی سربراہ جنرل عبدالرحیم موسوی سے بھی فون پر رابطہ کیا، جس سے خطے کی پیچیدہ سفارتی سرگرمیوں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ مختلف ممالک کو ٹیرف سے متعلق خطوط بھی ارسال کر رہے ہیں، اور جمعہ تک 10 سے 12 ممالک یہ خطوط موصول کر لیں گے۔
یہ سفارتی سرگرمیاں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے متوقع دورۂ واشنگٹن سے چند روز قبل سامنے آئی ہیں، جو امریکہ-اسرائیل تعلقات اور جنگ بندی کی کوششوں کے تناظر میں اہمیت کی حامل ہیں۔
