کراچی (اسٹاف رپورٹر) ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی میں ٹریفک پولیس رشوت ستانی کی صنعت بن چکی ہے، جہاں کروڑوں روپے یومیہ بھتہ لیا جا رہا ہے جو اعلیٰ حکام تک پہنچتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نمبر پلیٹس اور چالان کے نام پر شہریوں سے لوٹ مار کی جا رہی ہے، جو حکومت سندھ کی سرپرستی میں جاری ہے۔
پاکستان میں ٹیلی کام ڈیٹا کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ، 2024-25 میں 27,897 پیٹا بائٹس تک جا پہنچا
ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے کراچی کے شہریوں کو لوٹنے کے لیے نیا راستہ نکال لیا ہے، اور ٹریفک پولیس کو وردی میں بدمعاشی کی کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی میں ڈمپر مافیا کے ہاتھوں شہریوں کی جانیں غیر محفوظ ہو چکی ہیں جبکہ ٹریفک جام روز کا معمول بن چکا ہے، لیکن حکومت اور پولیس کے پاس ان مسائل کا کوئی حل موجود نہیں۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ حکومت سندھ کی کارکردگی یہ ہے کہ کراچی کی سڑکیں موہنجو داڑو جیسی بنا دی گئی ہیں، لیکن چالان لینے کا نظام امریکہ جیسا اپنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ سندھ حکومت اب شہریوں سے ٹوٹی سڑکوں پر سفر کرنے کا حق بھی چھیننا چاہتی ہے۔ اگر کراچی کے عوام کا صبر جواب دے گیا تو ایسا سیلاب آئے گا جو تمام حکومتوں کو بہا لے جائے گا۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے حکومت سندھ کو خبردار کیا کہ وہ اپنی ناقص حکمت عملی، ظلم اور ناانصافیوں کا سلسلہ بند کرے، ورنہ حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔
