اسلام آباد (بیورو رپورٹ) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت طلال چوہدری سے چئیرمین رویت ہلال کمیٹی مولانا عبدالخبیر آزاد کی سربراہی میں تمام مکاتب فکر کے جید علمائے کرام نے اہم ملاقات کی۔ ملاقات کا مقصد محرم الحرام بالخصوص یوم عاشور کے دوران امن و امان اور مذہبی ہم آہنگی کو یقینی بنانا تھا۔
ڈسٹرکٹ سٹی پولیس کی بڑی کارروائی، 4 منشیات فروش اور 2 گٹکا ماوا سپلائرز گرفتار
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے علمائے کرام کے کردار کو سیکیورٹی اداروں کے برابر قرار دیتے ہوئے کہا کہ محرم میں علما کا کلیدی کردار ہے، جو معمولی تنازعات بھی خوش اسلوبی سے حل کرواتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "میں اس بات کا گواہ ہوں کہ علمائے کرام نے کئی حساس مواقع پر مثالی کردار ادا کیا، اور یہی اتحاد پاکستان کی اصل طاقت ہے۔”
محسن نقوی نے کہا کہ "ہمیں اس سنہرے اصول کو اپنانا ہوگا کہ ‘اپنا مسلک نہ چھوڑو، دوسرے کا مسلک نہ چھیڑو'”۔ انہوں نے مزید کہا کہ امام حسینؑ تمام مسلمانوں کے لیے مشترکہ شخصیت ہیں، اور ہمیں اتحاد کا پیغام پاکستان بھر میں پھیلانا ہوگا۔
وزیر داخلہ نے 14 اگست کو فیصل مسجد میں تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام کے ساتھ باجماعت نماز ظہر کی ادائیگی کی تجویز دی، جس میں حکومتی نمائندوں کی بھرپور شرکت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ "یہ اجتماع دنیا کو یہ پیغام دے گا کہ پاکستانی قوم فرقہ واریت سے بالا تر ہو کر متحد ہے۔”
اس موقع پر محسن نقوی نے خیبرپختونخوا میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ علمائے کرام کے ہمراہ وہاں اجلاس منعقد کیا جائے تاکہ نفرت اور دہشتگردی کے خلاف متفقہ لائحہ عمل اپنایا جا سکے۔
وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے علمائے کرام کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ "آپ نے ہر موقع پر فرض کی ادائیگی میں مثال قائم کی، خصوصاً محرم اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں آپ کی ذمہ داریاں مزید بڑھ جاتی ہیں۔”
مولانا عبدالخبیر آزاد نے وزیر داخلہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ علمائے کرام نے ملک میں مذہبی ہم آہنگی، رواداری اور امن کے فروغ میں ہمیشہ بھرپور کردار ادا کیا ہے۔
اجلاس میں قاضی عبدالغفار قادری، علامہ شبیر حسین، مفتی محمد اقبال رضوی، مولانا طیب قریشی، مفتی عاشق حسین شاہ، علامہ زاہد حسین کاظمی، مولانا مقصود احمد توحیدی، اور دیگر اہم علما و مشائخ نے شرکت کی۔
اس موقع پر سیکریٹری داخلہ، ڈی جی ایف آئی اے، چیف کمشنر اسلام آباد اور آئی جی اسلام آباد پولیس بھی موجود تھے۔
