خیبرپختونخوا کے قبائلی اضلاع میں سیکیورٹی صورتحال سنگین ہو گئی ہے، جس کے بعد جنوبی وزیرستان لوئر میں وانا شہر اور مضافاتی علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر ناصر خان کے مطابق یہ اقدام امن و امان کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے۔
ڈیجیٹل معیشت کی جانب تیز پیش رفت وزیراعظم نے اہداف دگنا کرنے کی ہدایت کر دی
حکام کے مطابق علاقے میں دفعہ 144 بھی نافذ کر دی گئی ہے اور شہریوں کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی گاڑیاں دیکھ کر اپنی گاڑیاں 50 میٹر کے فاصلے پر روک دیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے۔
یاد رہے کہ افغان سرحد سے متصل اضلاع بشمول وزیرستان، باجوڑ اور دیگر علاقوں میں حالیہ دنوں دہشت گردی کی لہر میں اضافہ ہوا ہے۔ ان حملوں میں نہ صرف عام شہری بلکہ ریاستی افسران اور سیکیورٹی اہلکار بھی نشانہ بنائے گئے ہیں۔
گزشتہ روز باجوڑ کے علاقے خار میں صدیق آباد پھاٹک کے قریب زور دار بم دھماکہ ہوا جس میں اسسٹنٹ کمشنر ناواگئی فیصل اسمٰعیل، تحصیلدار ناواگئی، دو پولیس اہلکار اور ایک شہری شہید ہو گئے جبکہ 11 افراد زخمی ہوئے۔
ہسپتال ذرائع کے مطابق شہداء کی لاشیں خار ہسپتال منتقل کی گئیں اور زخمیوں کو فوری طبی امداد دی جا رہی ہے۔
فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ حملے "فتنہ الہندوستان” کے اسپانسرڈ دہشت گرد گروہوں کی کارستانی ہیں، جن کے خلاف فورسز نے جوابی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رہیں گی اور مقامی تعاون کے بغیر دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔
