کراچی، 30 جون (اسٹاف رپورٹر) — سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کی جانب سے خطرناک اور ناقابل رہائش قرار دی گئی دو مخدوش عمارتوں میں افسوسناک حادثات پیش آئے، جس میں ایک عمارت کے منہدم ہونے سے دو قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوگئیں۔
ایس بی سی اے کی جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، ڈسٹرکٹ ساؤتھ کے علاقے موسیٰ لین پر واقع پلاٹ نمبر LY-10 پر تیسری منزل کی چھت اچانک زمیں بوس ہو گئی، جس کے نتیجے میں پوری تیسری منزل منہدم ہو گئی جبکہ زیریں منزلیں بھی مخدوش ہو چکی ہیں اور ان میں واضح دراڑیں آ چکی ہیں۔ حادثے میں دو افراد جاں بحق ہوئے۔
دوسرا واقعہ غلام حسین قاسم کوارٹرز کے پلاٹ نمبر 29 اور 30 پر قائم چھ منزلہ عمارت "فرزانہ منزل” میں پیش آیا، جہاں چھٹی منزل کی خستہ حال چھت پر نصب پانی کی ٹنکی کے دباؤ سے عمارت کا ایک حصہ زمیں بوس ہو گیا۔ خوش قسمتی سے اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم باقی حصے میں شدید دراڑیں پڑ چکی ہیں اور عمارت کے گرنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
ایس بی سی اے کے مطابق، دونوں عمارتیں پہلے ہی خطرناک اور ناقابل رہائش قرار دی جا چکی تھیں اور حالیہ دنوں میں متعدد بار مکینوں کو فوری انخلا کے نوٹسز بھی جاری کیے گئے تھے، حتیٰ کہ ہفتے کو لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اعلانات بھی کیے گئے تھے۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی ڈائریکٹر جنرل ایس بی سی اے محمد اسحاق کھوڑو نے نوٹس لیتے ہوئے ٹیکنیکل عملے کو جائے حادثہ پر بھیجا۔ متعلقہ عملہ اور ضلعی انتظامیہ کی مدد سے عمارتوں کو خالی کرا کے سربمہر کر دیا گیا ہے، جبکہ مکینوں کے قیمتی سامان کو محفوظ طریقے سے نکالنے کا کام بھی جاری ہے۔
ڈی جی ایس بی سی اے محمد اسحاق کھوڑو نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ حادثے ان مکینوں کے لیے سبق ہونا چاہئیں جو اب بھی خطرناک عمارتوں میں رہائش پذیر ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ ایس بی سی اے کی وارننگز کو سنجیدہ لیں اور اپنی جانوں کا تحفظ یقینی بنائیں۔
واضح رہے کہ مون سون سیزن کے دوران ایس بی سی اے کی جانب سے "رین ایمرجنسی سینٹر” قائم کیا گیا ہے جہاں تکنیکی عملہ 24 گھنٹے بغیر تعطیل اپنی ڈیوٹی انجام دے رہا ہے۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ اگر کسی عمارت میں بارش یا سیوریج کی وجہ سے نقصان ہو رہا ہو تو فوری اطلاع ایس بی سی اے کے ہیلپ لائن نمبرز 99232355 اور 99230939 یا ویب سائٹ www.sbca.gos.pk پر دیں۔

