پی اے سی کا کے الیکٹرک کو ہر ماہ سندھ حکومت کو 700 ملین روپے الیکٹرک ڈیوٹی ادا کرنے کا حکم، عدم ادائیگی پر فوجداری کارروائی کی وارننگ

کراچی (نمائندہ خصوصی)۔ سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے کے الیکٹرک کو حکم دیا ہے کہ وہ ستمبر 2024ء سے صارفین سے بجلی کے بلوں میں وصول کی جانے والی الیکٹرک ڈیوٹی میں سے ہر ماہ سندھ حکومت کو 500 سے 700 ملین روپے ادا کرے۔ پی اے سی نے خبردار کیا ہے کہ اگر کے الیکٹرک نے اس فیصلے پر عملدرآمد نہ کیا تو اس پر فنانشل چارجز عائد کیے جائیں گے اور کمیٹی کا استحقاق مجروح کرنے پر مجرمانہ کارروائی کا آغاز بھی کیا جا سکتا ہے۔

این سی اے اسکلز ڈویلپمنٹ کیمپ کے تیسرے مرحلے کا آغاز، کھلاڑیوں کی بیٹنگ، باولنگ اور فٹنس پر توجہ

اجلاس کی صدارت چیئرمین نثار کھوڑو نے کی، جبکہ اراکین قاسم سراج سومرو، خرم سومرو، مخدوم فخر الزمان، کے الیکٹرک کی سعدیہ دادا، واٹر بورڈ کے انجنیئر اسداللہ خان، سیکریٹری انرجی مشتاق احمد اور ڈی جی آڈٹ سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔

اجلاس میں کے الیکٹرک کی جانب سے اگست 2024ء تک صارفین سے 32 ارب روپے الیکٹرک ڈیوٹی کی مد میں وصولی کا معاملہ زیر بحث آیا۔ کے الیکٹرک نے ان فنڈز کی سندھ حکومت کو ادائیگی کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن (KWSC) پر 23.5 ارب اور سندھ حکومت کے اداروں پر 7.4 ارب روپے کے واجبات کی ادائیگی سے مشروط کر دی۔

پی اے سی ارکان نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کے الیکٹرک نے سندھ حکومت سے وصول کردہ ڈیوٹی کی رقم اپنے پاس غیر قانونی طور پر روک رکھی ہے، جو کہ آئین اور قانون کی خلاف ورزی ہے۔ قاسم سومرو نے سوال اٹھایا کہ اگر پارلیمنٹرینز واجبات نہ ادا کرنے پر معطل ہو سکتے ہیں تو کے الیکٹرک کے ساتھ بھی ویسا ہی رویہ اختیار کیوں نہ کیا جائے۔

سعدیہ دادا نے کہا کہ ادارہ مالی خسارے کا شکار ہے، تاہم اپریل 2024ء میں 721 ملین اور مئی میں 545 ملین روپے سندھ حکومت کو ادا کیے جا چکے ہیں۔ پی اے سی نے وضاحت مانگی کہ بقیہ 32 ارب روپے کی رقم کب ادا کی جائے گی؟

کراچی واٹر بورڈ کے انجنیئر اسداللہ نے دعویٰ کیا کہ واٹر بورڈ کے 23.5 ارب روپے واجبات وفاقی حکومت کو ادا کرنے ہیں، کیونکہ 2005ء اور 2009ء میں وفاقی حکومت اور ابراج گروپ کے درمیان ہوئے معاہدے کے تحت اسٹریٹجک صارفین کے واجبات کی ادائیگی وفاقی حکومت نے کرنی ہے، جس میں واٹر بورڈ بھی شامل ہے۔

پی اے سی نے واٹر بورڈ، سندھ حکومت اور وفاق کے اداروں کے واجبات کے اس پیچیدہ مسئلے کو حل کرنے کے لیے سندھ کابینہ کو بھیجنے کی سفارش کی ہے۔

اختتام پر چیئرمین نثار کھوڑو نے واضح کیا کہ ستمبر 2024ء سے صارفین سے وصول کی جانے والی ہر ماہ کی الیکٹرک ڈیوٹی سندھ حکومت کو باقاعدگی سے ادا کی جائے، بصورت دیگر کے الیکٹرک کے خلاف فوجداری کارروائی اور مالی سزائیں دی جائیں گی۔

68 / 100 SEO Score

One thought on “پی اے سی کا کے الیکٹرک کو ہر ماہ سندھ حکومت کو 700 ملین روپے الیکٹرک ڈیوٹی ادا کرنے کا حکم، عدم ادائیگی پر فوجداری کارروائی کی وارننگ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!